BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 11 March, 2004, 01:08 GMT 06:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گوانتانامو: پانچوں برطانوی آزاد
ان افراد کو بدھ کو رہا کیا گیا
ان افراد کے وکلاء نے خیال ظاہر کیا ہے کہ ممکن ہے کہ یہ افراد کیوبا میں اپنی بلاجواز حراست کے خلاف امریکی حکام پر مقدمہ کریں
برطانوی پولیس نے امریکی فوجی اڈے گوانتانامو سے رہا کئے جانے والے پانچوں برطانوی افراد کو آزاد کردیا ہے۔

جن افراد کو بدھ کی شام رہا کیا گیا ہے ان میں میں چھبیس سالہ شفیق رسول، تئیس سالہ روہیل احمد اور بائیس سالہ آصف اقبال شامل ہیں۔

ان پانچوں میں سے جمال الحارث کو سب سے پہلے منگل کے روز آزاد کیا گیا تھا جس کے بعد اگلے روز یعنی بدھ کو چھبیس سالہ طارق درگل نامی شخص کو رہا کیا گیا جوکہ مشرقی لندن سے ہیں۔

بدھ کی شام پولیس نے بقیہ تین افراد کو بھی کوئی الزام عائد کئے بغیر رہا کردیا۔

ان افراد کے وکلاء نے خیال ظاہر کیا ہے کہ ممکن ہے کہ یہ افراد کیوبا میں اپنی بلاجواز حراست کے خلاف امریکی حکام پر مقدمہ کریں اور دو سال قید پر ہرجانے کا مطالبہ کریں۔

اپنی رہائی کے بعد جمال الحارث نے ایک بیان میں کہا کہ بے گناہ ہونے کے باوجود انہیں کیوبا میں حراست میں رکھا گیا اور ظالمانہ اور غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنایا گیا۔

طارق کو جب رہا کیا گیا تو ان کی ذہنی حالت تو درست تھی تاہم ان کی جسمانی حالت زیادہ بہتر نہیں تھی۔ ان کے بھائی کے مطابق انہیں چلنے میں شدید دشواری پیش آرہی تھی۔

مراکش سے تعلق رکھنے والے طارق نے بتایا کہ وہ افغانستان کا دورہ کررہے تھے جب انہیں گرفتار کیا گیا۔

برطانیہ پہنچنے پر ان تمام کو لندن کے مرکزی پولیس سٹیشن میں رکھا گیا تھا۔

رہائی پانے والے افراد کی وکیل گیرتھ پیئرس نے افراد ساتھ برطانوی حکام کے سلوک پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ان افراد کو حکام نے غیر ضروری اور طویل قانونی کارروائی کا اس وقت نشانہ بنائے رکھا جب وہ پہلے ہی نیند کی شدید کمی کا شکار تھے۔

ان پانچوں کو سن دو ہزار ایک کے آخر میں امریکی حکام نے افغانستان سے گرفتار کیا تھا۔

امریکہ نے یہ کہہ کر ان افراد کو گوانتانامو سے رہا کیا ہے کہ اب وہ امریکہ کے لئے خطرہ نہیں ہیں۔ چند مزید برطانوی شہری ابھی گوانتا نامو میں قید ہیں۔

برطانوی شہریت رکھنے والے دیگر چار افراد میں، جو اب بھی کیوبا میں زیر حراست ہیں، تئیس سالہ شہری فیروز عباسی، تئیس سالہ رچرڈ بالمر، انتیس سالہ مارٹن مبانگا اور چھتیس سالہ معظم بیگ شامل ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد