BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 May, 2004, 12:02 GMT 17:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کتوں سے ہراساں کرنے کی پالیسی‘
News image
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی ایک خبر میں کہا گیا ہے کہ ابو غریب جیل کے انچارج امریکی جنرل جیفری ملر نے عراقی قیدیوں کو ہراساں کرنے کے لئے کتوں کے استعمال کو فروغ دیا۔

اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ابو غریب جیل کے سینئر انٹیلیجنس افسر کرنل تھامس نے ایک حلفیہ بیان پیش کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ جنرل ملر نے ان کے ساتھ قیدیوں کو کتوں کے ذریعے ہراساں کرنے کے طریقے پر بات چیت بھی کی تھی۔

یہ گفتگو اس زمانے میں ہوئی تھی جب جنرل ملر خلیج گوانتانامو میں جیل کےانچارج تھے۔

کرنل تھامس کا کہنا تھا کہ جنرل ملر نے انہیں بتایا تھا کہ گوانتا نامو کے قید خانے میں قیدیوں سے باتیں پوچھنے کے لئے کتوں کا استعمال بڑی کامیابی سے کیا گیا تھا۔

تاہم عراق میں امریکی فوج کے ایک ترجمان نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ ایسی کوئی گفتگو ہوئی تھی۔ انہوں نے یہ ماننے سے بھی انکار کیا کہ گوانتانامو کی جیل میں قیدیوں سے تفتیش کے لئے کتوں کو استعمال کیا گیا تھا۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق عراق میں ایک اعلیٰ امریکی فوجی افسر لیفٹینینٹ جنرل ریکارڈو سانچے نے قیدیوں پر کتوں کو استعمال کرنے کی پالیسی کی منظوری دی تھی۔

ادھر نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی امریکی آرمی کی ایک رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات اتنے کم نہیں جتنا عام طور پر سمجھا جاتا ہے بلکہ ایسے واقعات خاصے زیادہ ہیں۔

یہ رپورٹ امریکی فوج نے ابو غریب جیل کے سکینڈل کے بعد تیار کروائی تھی۔

اخبار کا کہنا ہے کہ قیدیوں سے بدسلوکی کے واقعات سن دوہزار دو میں افغانستان سے شروع ہوئے تھے اور ماضی قریب میں سرزمینِ عراق تک پھیلے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق قیدیوں کی اموات سمیت درجنوں واقعات کی تحقیقات جاری ہیں۔

ان 37 قیدیوں کے بارے میں جو افغانستان اور عراق کی جیلوں میں ہلاک ہوئے، اخبار نے نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ مرنے والے فوجیوں کا پوسٹ مارٹم تک نہیں کرایا گیا اور ان کےمرنے کی وجوہات کا تعین بھی نہیں کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بغداد کے شمال میں ایک قید خانے میں فوجی تفتیش کاروں نے قیدیوں کو سروں پر مارا اور ان کے بال نوچے۔

اخبار نے رپورٹ کے حوالے سے یہ بھی لکھا ہے کہ ایک خاتون عراقی قیدی پر گزشتہ سال ابو غریب کی جیل میں جنسی حملہ بھی کیا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد