امریکی فوجی: سزا میں نرمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کی ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کرنے والے امریکی فوجیوں کے گروہ کے مبینہ سرغنہ چارلس گارنر نے اپنے کورٹ ماشل کے دوران پہلی بار سزا میں نرمی کی اپیل کی ہے۔ چارلس گارنر کو امریکہ کی ایک عدالت نے جمعہ کو مجرم قرار دے دیا ہے جس کے نتیجے میں خیال کیا جات تھا کہ اسے اسے ساڑھے سترہ سال تک کی قید کی سزا کاٹنی ہو گی لیکن اب کہا گیا ہے کہ یہ سزا پندرہ سال تک ہو سکتی ہے۔ چھتیس سالہ چارلس گارنر پر مقدمے کی کارروائی کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ اس نے عراقی قیدیوں پر محض تفریح کی خاطر تشدد کیا۔ چارلس گارنر نے اپنے خلاف لگائے گئے پانچ الزامات سے انکار کیا تھا اور ان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کا موکل صرف احکامات کی تعمیل کررہا تھا اور اس نے کئی بار اپنے اعلیٰ افسروں سے اس بارے میں شکایت کی تھی۔ مقدمے کی سماعت کے دوران وکیل استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ چارلس گارنر نے قیدیوں پر تشدد اپنے مخصوص اور گِرے ہوئے جنسی مزاح کی تسکین کے لیے کیا جبکہ وکیل دفاع کا کہنا تھا کہ ان کے موکل نے اس کو دی گئی اُن ہدایات پر عمل کیا جن کا مقصد قیدیوں سے موثر طریقے سے تفتیش کرنا تھا۔ ابو غریب جیل میں تشدد کے واقعے میں مزید دو گارڈز کے خلاف مقدمہ چلایا جانا ہے جبکہ ایک تیسری فوجی لِنڈی انگلینڈ کے خلاف بھی عدالتی کارروائی کی جانی ہے جس نے پچھلے سال ایک بچے کو جنم دیا ہے جو مبینہ طور پر چارلس گارنر کا ہے۔ ابو غریب میں قیدیوں سے کی جانے والی مبینہ بدسلوکی کی بنا پر چار فوجیوں کو سزا سنائی جا چکی ہے جب کہ تین کے غلاف سماعت ہونا ابھی باقی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||