’امریکہ کی ساکھ کمزور ہوئی ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکہ اب دنیا کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کی تاکید کرنے کا اخلاقی جواز کھو چکا ہے کیونکہ انسانی حقوق کے بارے اس کا اپنا ریکارڈ بہت خراب ہو چکا ہے۔ ہیومین رائٹس واچ نے کہا ہے کہ عراق میں امریکہ کی نگرانی میں چلنے والی ابو غریب جیل اور گوانتانوموبے دہشت گردی کے الزام میں رکھے گئے قیدیوں کے ساتھ جس طرح سلوک کیا جا رہا ہے اس کے بعد امریکہ دنیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں پر تنقید کرنے کے قابل نہیں رہا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اب دنیا کا کوئی ملک امریکہ کا انسانی حقوق کے بارے اعتراض کو سنجیدگی سے نہیں لیتا۔ ہومین رائٹس واچ نے کہا کہ جب دارفور میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر امریکہ نے احتجاج کیا تواس کے احتجاج کو’اسلام اور عرب دشمنی‘ قرار دے رد کر دیا گیا۔ ہومین رائٹس واچ نے ایک آزاد کمشن کے قیام کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ابوغریب اور گوانتانوموبے میں ہونے والی مبیبنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیق کرائی جا سکے۔ ہومین رائٹس واچ کے مطابق امریکہ نے تشدد کے خلاف جنگ کے بہانے انسانی حقوق کی پامالی شروع کر دی ہے جس کی وجہ ا ب دنیا میں اب اس کا انسانی حقوق کا احترام کرنے والے ملک کی شہرت ختم ہو چکی ہے اور اس کی کوئی بات سننے کے لیے بھی تیار نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||