امریکہ پر ہیومن رائٹس واچ کی تنقید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حقوق انسانی کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنی ایک رپورٹ میں امریکہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ افغانستان میں امریکی فواج انسانی حقوق کی صریحً خلاف ورزیوں کی مرتکب ہو رہی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ امریکی فوجی، طاقت کا ضرورت سے زیادہ استعمال کررہے ہیں، بے شمار افراد کو حراستی مراکز میں رکھ کر ان سے غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے۔ یہ رپورٹ آج یعنی پیر کے روز جاری کی گئی ہے۔ افغانستان میں نو ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ امریکہ کی کئی کارروائیاں عالمی قوانین کے خلاف ہیں۔ اس رپورٹ میں ہیومن رائٹس واچ نے افغانستان میں امریکی حراستی مراکز کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے مراکز ملک بھر میں قائم کئے گئے ہیں اور یہ عالمی قوانین کے دائرے سے باہر ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سن دو ہزار دو سے لے کر اب تک کم از کم ایک ہزار معصوم افغان باشندے حراست میں لئے گئے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ حراستیں اکثر امریکی فوجیوں کی بلا اشتعال تشدد آمیزی کے بعد معصوم شہریوں کی موت یا ان کے شدید زخمی ہونے پر منتج ہوئی ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے حراست میں لئے جانے کے بعد برا سلوک کرنا ایک عام کارروائی بن گئی ہے۔ امریکی فوجی گرفتار شدگان پر تشدد کے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں مثلاً انہیں سونے نہ دینا، شدید درجۂ حرارت میں رکھنا اور مارنا پیٹنا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ وہ کارروائیاں ہیں جنہیں امریکہ خود دوسرے ممالک میں تشدد قرار دیتا ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ ایسا رویہ ہے جو امریکہ کو دوہرے معیار کا حامل ثابت کرتا ہے۔ امریکی فوج کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ان الزامات پر فوج سنجیدگی سے غور کررہی ہے تاہم رپورٹ میں افغانستان کی اصل صورتحال کی عکاسی نہیں ہوتی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||