بدسلوکی پر امریکی فوجی کو سزا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد کے نزدیک ابو غریب جیل میں عراقی قیدیوں سے بدسلوکی کرنے میں شریک ہونے پر ایک امریکی فوجی کو آٹھ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ فوجی اسٹاف سارجنٹ آئیون فریڈرک نے جیل میں قیدیوں سے جسمانی اور جنسی بدسلوکی کرنے سے متعلق پانچ الزامات کا اعتراف جرم کیا تھا۔ جج نے اپنے فیصلہ میں فریڈرک کے رینک میں کمی، تنخواہ کی ضبطی، اور فوج سے نکال دیے جانے کی سزائیں بھی سنائی ہیں۔ اب تک اس سکینڈل میں جن لوگوں کو سزا سنائی گئی ہے ان میں فریڈرک سب سے اونچے عہدے کے فوجی ہیں۔ امریکی جریدے ’دی نیو یارکر‘ نے اس انکوائری کی رپورٹ کے اقتباس شائع کیے تھے جو عراق میں امریکی افواج کے جنرل ریکارڈو ایم سانچیز نے جیلوں سے ملنے والی شکایات کے بارے میں کرائی۔ اس رپورٹ میں جن بد سلوکیوں کا ذکر کیا گیا تھا ان میں قیدیوں کو برہنہ کرنا، توہین آمیز انداز اور زاویوں سے ان کی برہنہ تصاویر بانا، قیدیوں پر کیمیکل لائٹس توڑنا اور ان پر فاسفورک محلول انڈیلنا، برہنہ قیدیوں پر ٹھنڈا پانی انڈیلنا، قیدیوں کو جھاڑو کے ڈنڈے اور کرسیوں سے مارنا، مرد قیدیوں کو زنا کی دھمکی دینا، تشدد کے نتیجے میں قیدی کا جسم پھٹنے کی صورت میں جیل کے ملٹری پولیس کے محافظ کو ٹانکے لگانے کے لیے کہنا، شامل ہیں۔ ایک قیدی کی مقعد میں کیمیکل لائٹ اور جھاڑو کا ہتھہ گھسیڑا گیا۔ قیدیوں پر فوجی چھوڑے گئے اور فوجی کتوں سے کٹوانے کی دھمکیاں دی گئیں۔ ایک ایک کتے نے ایک قیدی کو کاٹ بھی لیا۔ میجر ریکارڈو کہتے ہیں کہ ان تمام باتوں کی انتہائی واضح تصویری شہادتیں موجود ہیں اور یہ تصاویر اور ویڈیو اس وقت بنائی گئیں جب یہ سب کچھ کیا جا رہا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||