کرزئی: امریکہ مخالفت پر ناراض | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ جو لوگ امریکہ کے خلاف مظاہرے کررہے ہیں، دراصل یہ وہ لوگ ہیں جو نہیں چاہتے کہ افغانستان اور امریکا کے درمیان تعلقات بہتر ہوں۔ صدرکرزئی نے ان مظاہرین کو سولہ افراد کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار نے کابل سے یہ بتایا ہے کہ گوانتانامو میں قرآن کی مبینہ بے حرمتی کے واقعہ کے بعد افغانستان میں امریکہ کے خلاف مظاہروں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ مظاہرین کا یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ گوانتانامو میں قرآن کی مبینہ بے حرمتی کے واقعہ پر امریکہ کے صدر جارج بش کو معافی مانگنی چاہیے۔ مظاہرین میں سے پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے ان کے پاس سے بم بنانے کا کچھ سامان برآمد ہوا ہے۔ اس سے پہلے جمعہ کو ہونے والے مظاہروں میں نو افراد ہلاک ہو چکے تھے جن میں پولیس کے چار اہلکار بھی شامل ہیں۔ صدر کرزئی نے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک میں امریکی فوجی اپریشن پر زیادہ کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ سابق طالبان حکومت کے حامیوں اور مشتبہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران امریکی فوجیوں نے خاصی غلطیاں کی ہیں۔ صدرکرزئی نے یہ دعوی کیا ہے ان کی ان غلطیوں کی وجہ سے مظاہرین کو تشدد پر اکسانے والوں کو مدد ملی ہے۔ صدر کرزئی نے کہا ہے کہ ان ہنگاموں کا آغاز گوانتانامو میں قرآن کی مبینہ بے حرمتی کے الزامات سامنے آنے کے بعد ہوا ہے۔ کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ افغان حکومت کے کسی اہلکار نے امریکی پالیسی پر سرِعام تشویش کا اظہار کیا ہو۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||