BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 19 June, 2005, 13:59 GMT 18:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغانستان: یرغمالی پولیس اہلکار ہلاک
طالبان
موسم گرما شروع ہوتے ہی طالبان کی کارروائیاں بڑھ گئی ہیں
افغانستان میں قندھار صوبے میں میانا شین ضلع کی پولیس کے سربراہ جنھیں جمعرات کو طالبان نے دس دوسرے پولیس اہکاروں سمیت یرغمال بنا لیا تھا ہلاک کر دیا گیا ہے۔

طالبان کے ترجمان عبدالطیف حکیمی نے کہا ہے کہ ننائے خان کو علماء کے حکم پر’فائرنگ سکواڈ‘ کے حوالے کر دیا گیا۔

عبدالطیف حکیمی نے کہا ہے کہ یرغمال بنائے جانے والے باقی افغان پولیس کے اہلکاروں کے مقدمات علماء کے سامنے زیر سماعت ہیں۔ یرغمال بنائے جانے والے پولیس اہلکاروں کی تعداد کے بارے میں متضاد اطلاعات ہیں۔

صوبہ قندھار جو طالبان کا گڑھ رہا ہے اس سال موسم گرما کے اوائل سے ہی طالبان کی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے ۔

ننائے خان کو ہلاک کرنے کے بعد ان کی لاش کو طالبان ایک گاؤں میں چھوڑ گیے اور انہوں نے کہا کہ وہ اس کو لے جا سکتے ہیں۔

قندھار صوبے کی پولیس کے نائب سربراہ سلیم خان نے کہا ہے کہ انہیں یرغمال بنائے جانے والے پولیس اہلکاروں کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق تیرہ پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنالیا گیا تھا۔

جنرل خان نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ میانا شین ضلع پر طالبان نے قبضہ کر لیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد