افغانستان: یرغمالی پولیس اہلکار ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں قندھار صوبے میں میانا شین ضلع کی پولیس کے سربراہ جنھیں جمعرات کو طالبان نے دس دوسرے پولیس اہکاروں سمیت یرغمال بنا لیا تھا ہلاک کر دیا گیا ہے۔ طالبان کے ترجمان عبدالطیف حکیمی نے کہا ہے کہ ننائے خان کو علماء کے حکم پر’فائرنگ سکواڈ‘ کے حوالے کر دیا گیا۔ عبدالطیف حکیمی نے کہا ہے کہ یرغمال بنائے جانے والے باقی افغان پولیس کے اہلکاروں کے مقدمات علماء کے سامنے زیر سماعت ہیں۔ یرغمال بنائے جانے والے پولیس اہلکاروں کی تعداد کے بارے میں متضاد اطلاعات ہیں۔ صوبہ قندھار جو طالبان کا گڑھ رہا ہے اس سال موسم گرما کے اوائل سے ہی طالبان کی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے ۔ ننائے خان کو ہلاک کرنے کے بعد ان کی لاش کو طالبان ایک گاؤں میں چھوڑ گیے اور انہوں نے کہا کہ وہ اس کو لے جا سکتے ہیں۔ قندھار صوبے کی پولیس کے نائب سربراہ سلیم خان نے کہا ہے کہ انہیں یرغمال بنائے جانے والے پولیس اہلکاروں کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق تیرہ پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنالیا گیا تھا۔ جنرل خان نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ میانا شین ضلع پر طالبان نے قبضہ کر لیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||