BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 01 June, 2005, 10:05 GMT 15:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغانستان:مسجد دھماکہ، بیس ہلاک
خدشہ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
خدشہ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
افغانستان کے جنوبی شہر قندھارمیں ایک مسجد میں دھماکے سے کم از کم بیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔افغانستان میں یہ اس نوعیت کا سب سے بڑا دھماکہ ہے۔

حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں کابل پولیس کے سربراہ محمد اکرم بھی شامل ہیں۔

پشاور سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں جمعیت اسلامی (ربانی گروپ) کے مشہور کمانڈر ملا نقیب اللہ بھی شامل ہیں۔

جمعیت اسلامی سے اختلافات کے باعت نقیب اللہ کچھ عرصہ اسلام آباد میں مقیم ہوگئے تھے۔ تاہم اب وہ اپنے آبائی شہر قندھار واپس جا چکے تھے۔

ہلاک ہونے والے اتوار کو قتل کیے جانے والے ایک سینئر عالم دین کی قل کے سلسلہ میں مسجد میں جمع تھے۔ مذکورہ عالم دین طالبان کے مخالف تھے۔

مولوی عبدا للہ فیاض کو دو موٹر سائیکل سواروں نے اس وقت ہلاک کر دیا تھا جب وہ اپنے دفتر سے نکل رہے تھے۔ گذشتہ ہفتے کے دوران انہوں نے اپنی ایک تقریر میں طالبان کے رہنما ملاء عمر پر شدید تنقید کی تھی۔

بی بی سی کابل کے دفترمیں نامعلوم شخص نےٹیلیفون پر دعوٰی کیا کہ اس کا تعلق طالبان سے ہے اور یہ کہ قندھار کی مسجد میں دھماکہ انہوں نے کیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق حادثے کے وقت قندھار کے مرکز میں واقع مسجد عبد الّرب میں دھماکہ کے وقت یعنی مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے تعزیت کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

مسجد کے قریب واقع ایک منی چینجر کی دکان کے مالک محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ اس نے شدید دھماکے کی آواز سنی جس سے ’میری دکان کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں۔‘

حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

دھماکہ میں بچ جانے والے ایک شخص نانائی آغا نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ لوگ ہرطرف بھاگ رہے تھے اور کچھ لوگ زمین پر پڑے آو و پکار کر رہے تھے۔’ہر طرف لاشیں بکھری ہوئی تھیں۔‘

دہماکہ کے بارے میں افغانستان کی وزارت داخلہ کے ترجمان نے کہا کہ ’یہ خود کش حملہ اسلام اور افغانستان کے دشمنوں نے کیا ہے۔‘

واضح رہے کہ مولوی عبداللہ فیاض صدرحامد کرزئی کے اہم حامیوں میں سے تھے اور وہ حکومت کی علماء اسلام کی کونسل کے سربراہ تھے۔

گذشتہ ماہ انہوں نے قندھار میں منعقد ہونے والے پانچ سو علماء کے اجلاس میں طالبان پر شدید تنقید کی تھی۔

انہوں نے کہا تھا کہ طالبان معصوم لوگوں کو مار رہے ہیں اور یہ کہ افغانستان کی تعمیر نو میں حکومت کی مدد کرنا چاہیے۔

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار اینڈریو نارتھ کا کہنا ہے کہ مسجد میں دھماکے سے ان خدشات میں اضافہ ہوگا کہ ستمبر میں ہونے والے پارلیمانی اتخابات سے پہلے کرزئی حکومت کے مخالف شدت پسند اپنی کارؤائیاں تیز کرنے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد