افغان انتخابات: ہراساں کرنےکی مہم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک نئی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں مسلح ملیشیاز کے لیڈروں نے انتخابات سے پہلے لوگوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ایسی صورت حال میں صدارتی انتخابات کے نتائج پر اثر پڑ سکتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں انتخابات کو ان ملیشیا کمانڈروں سے بھی اتنا ہی خطرہ ہے جتنا طالبان سے وابستہ مزاحمت کاروں سے۔ تنظیم نے امریکہ پر تنقید کی ہے کہ وہ ان ملیشیا کمانڈروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے اور انہیں غیر مسلح کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کئی علاقوں میں تو صحافی ان ملیشیا کمانڈروں سے اتنے خوف زدہ ہیں کہ وہ خود ہی اپنے کام کو سنسر کر دیتے ہیں۔ افغانستان میں امریکی سفیر ذلمے خلیل زاد نے اعتراف کیا کہ اس رپورٹ کی معلومات درست ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان ملیشیا کمانڈروں کے اثرورسوخ کو کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||