BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 01 August, 2005, 02:08 GMT 07:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سابق فوجی کی ہلاکت پر احتجاج

کشمیر
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں اتوار کو چند سو لوگوں نے پاکستان کی فوج کے ایک سابق حوالدار کی ہلاکت کے خلاف بطور احتجاج سڑک پر دھرنا دیا۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ انکی موت پولیس کے تشدد کے باعث ہوئی لیکن پولیس اسکی تردید کررہی ہے ۔دل کے عارضے میں مبتلا سابق فوجی کی موت اتوار کی صبح ان کے گھر میں واقع ہوئی ۔

احتجاجی مظاہرین نے جو عمررسیدہ سابق فوجی رحمت اللہ کے عزیز اقارب اور جاننے والے تھے میت سڑک پر رکھ کر دھرنا دیا۔ وہ پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کررہے تھے اور اس دوران وہ نعرہ بازی بھی کرتے رہے ۔

مظاہرین نے ٹائر جلاکر شاہراہ بند کردی اور تین گھنٹے جاری رہنے والے مظاہرے کے دوران ٹریفک معطل رہی۔ رحمت اللہ کے بیٹے شرافت علی کا کہنا ہے کہ انکے والد کی موت پولیس کے تشدد کے نتیجے میں ہوئی۔

ان کا کہنا ہے کہ اتوار کی صبح چھ بجے پولیس کے سات اہلکار ان کے گھر آئے انہوں نے ان کے والد کو مکوں لاتوں اور لاٹھیوں سے مارا اور گھسیٹ کر باہر لے گئے اور جونہی وہ صحن میں پہنچے انہوں نے دم توڑ دیا۔

انہوں نے کہا کہ جب پولیس اہلکاروں نے دیکھاکہ وہ مر چکے ہیں تو وہ وہاں سے بھاگ گئے ۔انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں تھا اور ہمیں نہیں معلوم کہ پولیس ہمارے گھر کیوں آئی اور انہوں نے نے ایسا کیوں کیا۔

انہوں نے کہا کہ’ ہم انصاف چاہتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ پولیس اہلکاروں کو گرفتار کیا جائے۔‘

لیکن مظفرآباد میں قائم پولیس سٹیشن کے ایس ، ایچ ، او وحید گیلانی نے ان الزامات کی تردید کی اور کہا کہ پولیس انکے گھر نہیں گئی تھی اور یہ کہ سرے سے ایسا کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں۔

مسڑ گیلانی کا کہنا ہے کہ انکے ہمسائے میں ایک شخص کے خلاف مقدمے درج ہوا تھا پولیس انکے گھر تفتیش اور اس شخص کی گرفتاری کے لیے گئی تھی ۔

رحمت اللہ کے خاندان والوں نے واقعہ کی رپورٹ پولیس سٹیشن میں درج کرائی اور رحمت اللہ کی میت کا پوسٹ مارٹم بھی کرایا گیا ۔ مظفرآباد کے ایڈشنل ڈپٹی کمشنر جنرل عطااللہ عطا کا کہنا ہے اگر پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ ثابت ہوا کہ سابق فوجی اہلکار کی موت تشدد سے واقعہ ہوئی ہے اور اس میں پولیس اہلکار ملوث تھے تو انکے خلاف کاروائی کی جائے گی ۔

حکام کی طرف سے اس یقین دہانی پر لوگوں نے تین گنٹھے بعد احتجاج ختم کردیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد