آلودہ پانی پینے سے انیس ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں آلودہ پانی پینے کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے اور گزشتہ دس روز کے دوران کم از کم انیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ محکمہ صحت کے حکام نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ آلودہ پانی پینے سے پیٹ کی بیماریوں کی وجہ سے پچاس کے قریب لوگ اس وقت بھی مخلتف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ ڈسڑکٹ ہیلتھ افسر ڈاکٹر محمود احمد نے بتایا ہے کہ زیادہ تر ہلاکتیں مظفرآباد کے جنوب میں ستر کلومیڑ کے فاصلے پر واقع ایک گاؤں میں ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق اس گاؤں میں قے اور اسہال سے تاحال نو افراد ہلاک ہوچکے ہیں ۔ محکمہ صحت کے ضلع افسر نے مزید بتایا کہ چار افراد مظفرآباد کے جنوب میں تیس کلومیڑ کے فاصلے پر واقع ایک اور گاؤں کمی کوٹ میں ہلاک ہوئے ہیں ۔ حکام کے مطابق متعلقہ گاؤں میں رواں ماہ کی ابتدا میں یہ وبا پھیلی تھی جس سے سینکڑوں لوگ متاثر ہوچکے ہیں۔
ایسی صورتحال کے بعد محکمہ صحت کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں اس بیماری کی روک تھام اور متاثرہ لوگوں کے علاج کے لئے ہنگامی طور پر دو میڈیکل کیمپ قائم کیے گئےہیں۔ ڈسرکٹ ہیلتھ افسر محمود احمد کا دعویٰ ہے کہ مظفرآباد کے جنوب میں پھیلتی ہوئی پیٹ کی بیماریوں پر تو قابو پالیا گیا ہے البتہ قے اور اسہال کی وبا مظفرآباد کے شمال مشرق میں واقع وادی نیلم کے علاقے گریس میں پھوٹ پڑی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس علاقے سے تاحال چار افراد کی ہلاکت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق یہ علاقہ بہت دور ہے اور سہولیات بھی کم ہیں لیکن اس کے باوجود بھی حکومت کی کوشش ہے کہ جلد سے جلد وہاں بھی طبی امداد کے کیمپ قائم کیے جائیں۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ اس علاقے کے لیے طبی ٹیمیں روانہ کردی گئیں۔ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے جنوب میں واقع ایک اور ضلع راولاکوٹ کے مختلف دیہات اور قصبوں میں بھی کئی لوگوں کے اس بیماری میں مبتلا ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔ محکمہ صحت کے حکام اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس وبا کے پیھلنے کی سب سے بڑی وجہ آلودہ پانی ہی ہے ۔ حکام نے عوام سے کہا ہے کہ اس بیماری سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ابال کر پانی پیا جائے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||