آلودہ پانی پینے سے چار ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور کے علاقے قصور پورہ میں گزشتہ رات سے بدھ کی صبح تک مبینہ طور پر آلودہ پانی پینے سے چار افراد کی ہلاکت کے بعد علاقے میں مختلف ہسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔ مرنے والوں کی تعداد زیادہ ہوسکتی ہے۔ راوی روڈ پر قصور پورہ، مرضی پورہ کے علاقوں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ درجنوں لوگ پیٹ کی بیماری اور ہیضہ کے سبب اس وقت میو ہسپتال اور دوسرے ہسپتالوں میں داخل ہیں۔ لاہور کے ضلعی ناطم میاں عامر محمود نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ قصور پورہ کے علاقہ میں چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ ہیضہ سے نہیں اسہال سے مرے ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ’یہ صورتحال خطرناک ہے۔‘
علاقہ کے لوگوں نے راوی روڈ سڑک پر رکاوٹیں کھڑی کرکے اسے ٹریفک کے لیے بند کردیا اور سڑک پر ٹائر جلائے اور پانی مہیا کرنے والے ادارہ واسا کے خلاف نعرے بازی کی۔ دوسری طرف ضلعی حکومت نے علاقہ میں فوری طور پر طبی کیمپ لگادیا ہے جہاں لوگوں کو ہیضہ وغیرہ کے خلاف حفاظتی ٹیکے لگائے جارہے ہیں اور دوا دی جارہی ہے۔ اس کیمپ میں لوگو ں کا ہجوم ہے۔ لاہور میں ضلعی حکومت کے دفاتر ٹاؤن ہال میں ایمرجنسی کی صورتحال نظر آرہی تھی۔
ضلعی ناظم میاں عامر نے کہا کہ علاقہ میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ پانی ابال کر پئیں اور ان میں آگاہی کے لیے پمفلٹ تقسیم کیے جارہے ہیں اور ہسپتالوں کو الرٹ کردیا گیا ہے۔ اس واقعہ کے فورا بعد صورتحال سے نپٹنے کے لیے پنجاب کے وزیر صحت میاں طاہر جاوید لاہور کے ضلعی ناظم سے ملنے ان کے دفتر گئے۔ علاقہ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے نلکوں میں گندا پانی آرہا ہے اور وہ واسا سے کئی بار شکایت کرچکے تھے لیکن اسے ٹھیک نہیں کیا گیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||