آلودہ پانی پینے سے 10 افراد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں محکمہ صحت کے حکام کے مطابق آلودہ پانی پینے کے باعث پیٹ کی بیماریوں کی وجہ سے کم از کم دس افراد ہلاک اور سینکڑوں لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ یہ ہلاکتیں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران ہوئی ہیں اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ حالیہ برسوں میں پہلی مرتبہ ہے کہ ایک وقت میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ مظفرآباد میں ڈسڑکٹ ہیلتھ افسر سردار محمود احمد نے بتایا کہ قے اور اسہال کہ باعث یہ ہلاکتیں ضلع مظفرآباد کے دو مختلف گاؤں مشٹنبھ اور کمی کوٹ میں ہوئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں گذشتہ ہفتے یہ وبا پھوٹی پڑی اور اسکے فوراً بعد ان علاقوں میں متاثرہ لوگوں کو طبی سہولت فراہم کرنے کے لئے موبائل ٹیمیں بیھجیں گئیں۔ حکام کہتے ہیں کہ مظفرآباد کے جنوب میں کوئی تیس کلومیڑ کے فاصلے پر واقع کمی کوٹ میں صورت حال بہتر ہوگئی ہے جہاں ایک ہفتے کے دوران چار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ البتہ ڈسڑکٹ ہیلتھ افسر محمود احمد کا کہنا تھا کہ مظفرآباد کے جنوب میں ہی کوئی ستر کلومیڑ کے فاصلے پر واقع مشٹنبھ گاؤں میں صورت حال اب بھی خراب ہے اور یہ کہ اس گاؤں کے ملحقہ تین سے چار اور گاؤں اس وبا کی لپیٹ میں آئے ہیں اور مشٹنبھ سمیت ان گاؤوں میں سیکڑوں لوگ قے اور اسہال کی بیماری میں مبتلا ہیں ۔ مشٹنبھ میں محکمہ صحت کے افسر کے مطابق اب تک پانچ افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں تین بچے بھی شامل ہیں۔ محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اس بیماری کی روک تھام اور مریضوں کے علاج معالجے کے لئے مشٹنبھ کے علاقے میں ہنگامی طور پر دو میڈیکل کیمپ قائم کئے گئے ہیں اور وہاں پر روزانہ ایک سو سے زائد مریضوں کو طبعی امداد فراہم کی جاتی ہے اور وہاں گنجائش کے مطابق کوئی ایک درجن مریضوں کو داخل کیا گیا ہے۔ ان متاثرہ علاقوں کے ایک قریبی مرکز صحت میں بھی ہنگامی بنیادوں پر دس بستروں پر مشمل ایک وارڈ قائم کیا گیا ہے اور وہاں ڈاکڑ کی خدمات چوبیس گھنٹے میسر ہیں۔ اس مرکز صحت میں تعنات ایک ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ وہاں پر پانچ افراد زیر علاج ہیں جبکہ روزانہ درجنوں افراد کو طبی امداد دی جاتی ہے ۔ اس وقت ان متاثرہ دیہاتوں سے مظفرآباد میں قائم کمبائنڈ ملڑی ہسپتال میں بھی تیس لوگ زیر علاج ہیں اور روزانہ ستر سے نوے میریضوں کو طبعی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ ڈسڑکٹ ہیلتھ افسرڈاکڑ محمود کا کہنا تھا کہ اس وبا کے پھیلنے کی وجہ آلودہ پانی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں لوگوں کو سرکاری نلکوں کے ذریعے جو پانی فراہم کیا جارہا ہے وہ آلودہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں چشمے کا پانی ذخیرہ کرنے کے لئے زیر زمین ہاوز تعمیر کیا جاتا ہے جو اوپر سے کھلا ہوتا ہے اور اس ہاؤز سے پانی نلکوں کے ذریعے لوگوں کو فراہم کیا جاتا ہے۔ دیہاتوں میں لوگ حاجات ضروری کے لئے کھتیوں اور کھلی جگہ کا رخ کرتے ہیں ۔ بارشوں کے موسم میں گندگی اور انسانی غلاظت بارش کے پانی کے ساتھ اس ہاوز میں چلی جاتی ہے اور لوگ یہی آلودہ پانی پیتے ہیں۔ اس پانی کے صاف کرنے کے لئے وہاں کوئی اننتظام موجود ہی نہیں ہے اور نہ ہی دیہاتوں میں گندے پانی کے نکاس کے لئے کوئی انتظام ہوتا ہے۔ حکام کہتے ہیں طبی امداد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں سے یہ کہا جارہا ہے کہ وہ ابال کر پانی پئیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||