لاہور میں ہیضے کی وبا: 2000 متاثر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں حکام نے تصدیق کر دی ہے کہ شہر میں ہیضے کی وبا پھیل گئی ہے جس سے متاثر ہونے والے دو ہزار سے زیادہ افراد کو مختلف ہسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی گئی ہے۔ لاہور کے ضلعی ناظم میاں عامر نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق دو افراد ہسپتال میں دم توڑ گئے جبکہ آٹھ افراد کی ہلاکت کی پہلے ہی تصدیق ہو چکی تھی۔ اخباری اطلاعات کے مطابق لاہور میں کم از کم سات افراد کی ہلاکت ہوئی ہے تاہم ایک اعلیٰ اہلکار کا کہنا ہے کہ اگرچہ مرنے والوں کی تعداد سات ہو سکتی ہے تاہم سرکاری ہسپتال میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔ ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس کے ڈاکٹر عبدالقیوم کا کہنا ہے آلودہ پانی سے متاثر ہونے والے افراد کے لیے قائم کیے گئے ہنگامی طبی کیمپوں میں دو ہزار چھ سو افراد کا علاج کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر قیوم نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں آٹھ میڈیکل کیمپ قائم کیے گئے ہیں جہاں دو ہزار سے زیادہ افراد کو طبی امداد دی گئی۔ ان میں سے تین سو پچاس افراد مختلف ہسپتالوں میں داخل کر دیا گیا ہے۔ دو ہفتوں میں پنجاب میں ہیضے کی یہ وبا دوسری بار پھیلی ہے۔ اس سے قبل رحیم یار خان میں ڈاکٹر سہیل بلوچ نے جو شیخ زید ہسپتال کے نگران ہیں بی بی سی کو بتایا تھا کہ اس وبا سے چار ہزار افراد متاثر ہوئے تھے اور گیارہ افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔ گزشتہ روز راوی روڈ پر قصور پورہ اور مرضی پورہ کے مکینوں کا کہنا تھا کہ درجنوں لوگ پیٹ کی بیماری اور ہیضہ کے سبب اس وقت میو ہسپتال اور دوسرے ہسپتالوں میں داخل ہیں۔ بدھ کو علاقہ کے لوگوں نے راوی روڈ سڑک پر رکاوٹیں کھڑی کرکے اسے ٹریفک کے لیے بند کردیا اور سڑک پر ٹائر جلائے اور پانی مہیا کرنے والے ادارہ واسا کے خلاف نعرے بازی کی۔ دوسری طرف ضلعی حکومت نے علاقہ میں فوری طور پر طبی کیمپ لگادیا ہے جہاں لوگوں کو ہیضہ وغیرہ سے بچاؤ کے لیے حفاظتی ٹیکے لگائے جارہے ہیں اور دوا دی جارہی ہے۔ اس کیمپ میں لوگو ں کا ہجوم ہے۔ قصور پورہ کے رہائشیوں کو ٹینکر کے ذریعے پانی مہیا کیا گیا۔ ضلعی ناظم میاں عامر نے کہا کہ علاقہ میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ پانی ابال کر پئیں اور ان میں آگاہی کے لیے پمفلٹ تقسیم کیے جارہے ہیں اور ہسپتالوں کو الرٹ کردیا گیا ہے۔ اس واقعہ کے فورا بعد صورتحال سے نپٹنے کے لیے پنجاب کے وزیر صحت میاں طاہر جاوید لاہور کے ضلعی ناظم سے ملنے ان کے دفتر گئے۔ علاقہ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے نلکوں میں گندا پانی آرہا ہے اور وہ واسا سے کئی بار شکایت کرچکے ہیں لیکن اسے ٹھیک نہیں کیا گیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||