’پینے کا صاف پانی لاہور کا بڑا مسئلہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور کے ضلعی ناظم میاں عامر محمود نے بی بی سی کو ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ اس وقت لاہور کا سب سے بڑا مسئلہ پینے کے صاف پانی کی دستیابی اور سیوریج کا نظام ہے۔ عامر محمود نے کہا کہ اگر انہیں اگلے مقامی انتخابات کے بعد لاہور کا ضلعی ناظم بننے کا دوبارہ موقع ملا تو وہ شہریوں کو پینے کا صاف پانی مہیا کریں گے۔ آج لاہور کے ایک علاقہ میں مبینہ طور پر پینے کے گندے پانی کی وجہ سے چار افراد ہلاک اور درجنوں بیمار ہوگئے ہیں۔ ضلع ناظم، جو اپنی چار سال کی مدت پوری کررہے ہیں، نے کہا کہ وہ اگلی بار بھی ضلعی ناظم کے امیدوار ہیں تاہم ان کی جماعت پاکستان مسلم لیگ اس بارے میں حتمی فیصلہ کرے گی۔ وفاقی وزیر تجارت ہمایوں اختر کے بھائی ہارون اختر بھی لاہور کے ناظم کے امیدوار ہیں۔ ضلعی ناظم نے کہا کہ اگر انہیں دوبارہ موقع ملا تو وہ ان منصوبوں کو مکمل کرائیں گے جو انہوں نے اس دور میں شروع کیے ہیں جیسے لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن اور تعلیمی اداروں کے حالات بہتر بنائیں گے۔ ضلعی ناظم نے کہا کہ انہوں نے اپنے اس چار سال کے دور میں جو بڑے بڑے کام کیے ہیں ان میں زمین کے ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن، لاہور ترقیاتی ادارہ (ایل ڈی اے) کی ہاؤسنگ اسکیم ایونیو ون شامل ہے جو گیارہ ہزار کنال زمین پر مشتمل ہے۔ عامر محمود نے کہا کہ انہوں نے چار سال میں لاہور سے ایسے ایک سو نواسی ’بھوت’ اسکول ختم کیے جو صرف کاغذوں میں تھے حقیقت میں نہیں اور وہاں کا عملہ تنخواہیں لے رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ شہری حکومت نے تین سو پچاس اسکولوں کو مختلف باوسیلہ افراد کی سرپرستی میں دیا تاکہ وہ ان کی حالت بہتر بناسکیں۔ ضلعی ناظم نے کہا کہ زمین خریدے بغیر پلاٹوں کی فائلیں بیچنے والے پراپرٹی ڈیویلپرز کے خلاف شہری حکومت نے کارروائی کی، کئی دفاتر مہربند کیے اور لوگوں کو اشتہاروں کے ذریعے تنبیہ کی گئی جس پر ان کے خلاف نجی ٹی وی چینلوں پر انٹرویو دیے گئے۔ ضلعی ناظم نے کہا کہ لاہور میں رِنگ روڈ بنانے کے منصوبہ کا ضلعی حکومت یا ایل ڈی اے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ پنجاب حکومت کا منصوبہ ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||