نوادرات اسمگل کرنے کی کوشش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی سے ہڑپہ اور گندھارا تہذیب کے قیمتی نوادرات دبئی اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنادی گئی ہے جن کی مالیات ستر کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔ کسٹم کی کلیکٹر مسرت جبیں نے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ یہ نوادرات میسرز کشمیر کارپیٹ کی جانب سےایک کنٹینر میں دبئی کے لیے اسلام آباد سے بک کروائے گئے تھے۔ کنٹینر میں یہ نوادرات فرنیچر اور پرانے برتنوں کے ساتھ رکھے گئے تھے۔ کسٹمز عملے نے ایک ہفتہ قبل چھاپہ مارکر کنٹینر سے چودہ سو بیاسی نوادرات برآمد کئے ۔ جن کا معائنے ایک چار رکنی کمیٹی سے کروایا گیا جس میں ماہر آثار قدیمہ اور قومی عجائب گھر کے لوگ بھی شامل تھے۔ مسرت جبیں نے بتایا کہ ماہرینِ آثار قدیمہ نے تصدیق کی کہ یہ نوادرات جن میں مجسمے، اسلامی تہذیب کے نمونے شامل تھے اصلی ہیں ۔ جن کا تعلق ہڑپہ اور گندھارا تہذیب سے ہے ۔ آثارِقدیمہ کے ایک ماہر نے بتایا ہے کہ یہ نوادرات بلوچستان اور افغانستان سے چوری کئے گئے ہیں۔ جن کی عالمی مارکیٹ میں مالیت سترکروڑ روپے ہے۔ کلیکٹر کسٹمز نے بتایا کہ کسٹم نے اس ضمن میں ایک شخص کو گرفتار کیا ہے اورمزید تحقیقات شروع کر دی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||