BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 13 May, 2005, 11:56 GMT 16:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انسدادِانسانی سمگلنگ کے اقدام

سپین اور فرانس کی درمیانی سرحد پرغیر قانونی طور پر آئے ہوئے پاکستانی اور انڈین
سپین اور فرانس کی درمیانی سرحد پرغیر قانونی طور پر آئے ہوئے پاکستانی اور انڈین
پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے انسانی سمگلنگ کو روکنے کے لئے اینٹی ٹریفکنگ یونٹ قائم کیا ہے۔ اس سلسلے میں سات خواتین سمیت ادارے کے پچیس افسران کو خصوصی ٹریننگ دی گئ ہے۔

مذکورہ نیایونٹ امریکی دفتر خارجہ کے بیورو آف جسٹس اورانٹرنیشنل آرگنائزیشن آف مائگریشن کے تعاون سے قائم کیا گیا ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں صرف خلیجی ریاستوں سے ایک لاکھ سے زائد پاکستانیوں کوان ریاستوں میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کے الزام میں گرفتار کر کے واپس پاکستان بھجوایاگیا ہے۔

غربت اور بیروزگاری کے ہاتھوں مجبور ان افراد کا تعلق عموماً پاکستان کے پسماندہ علاقوں سے بتایا جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں صحیح اعداد و شمار دستیاب نہیں تاہم کہا جاتا ہے کہ یہ افراد بیرون ملک جانے کے لیے مقامی ایجنٹوں کو پندرہ ہزار سے دو لاکھ روپے تک کی رقوم دیتے ہیں۔

سمندر کے ذریعے بیرون ملک بھیجے جانے والے ایسے افراد میں سے کچھ کی منزل عمان یا دوبئی ہوتی ہے جبکہ باقی ترکی کے راستے یورپ پہچنا چاہتے ہیں۔

ایسے ہزاروں افراد میں سے چند خوش نصیب ہی اپنی منزل کو پہنچ پاتے ہیں۔ ان میں اکثرخلیجی ریاستوں کے ساحلوں پر پکڑے جاتے ہیں اور جیلوں میں ڈال دیے جاتے ہیں۔

دوسری طرف یورپ جانے کے خواہشمند بھی اپنی منزل تک کم ہی پہنچ پاتے ہیں۔ یہ لوگ اگر ترکی کےساحل پر پکڑے جانے سے بچ جائیں تو ترکی سے یونان جاتے ہوئے دھر لئے جاتے ہیں۔ گذشتہ دو برسوں میں پچاس سے زائد افراد یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے مارے بھی گئے ہیں۔

آج کل پاکستان سے سمندر کے راستے انسانی سمگلنگ کے بلوچستان اورایران کے درمیان سرحد کو استعمال کیا جاتا ہے۔

کراچی کی لی مارکیٹ سے روزانہ دو بسیں چلتی ہیں جو بلوچستان کے سرحدی قصبے مند بلو جاتی ہیں۔ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ لوگ مندبلو سے سرحد پار کر کے ایران اور پھر عمان یا ترکی جائیں گے ان افراد کو کراچی میں گرفتار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ کوئی بھی قانون ملک کے کسی بھی علاقے تک سفر کرنے والوں کو پکڑنے کی اجازت نہیں دیتا۔

یہ افراد مندبلو پہنچ کر قبائیلیوں کو مذید رقم دے کر رات کی تاریکی میں ایران کی سرحد میں داخل ہوتے ہیں جہاں سے ایک روز بعد ان افراد کو لانچوں کے ذریعے عمان کی سرحد پر لے جا کر سمندر میں اتار دیا جاتا ہے۔ جبکہ ترکی میں بھی رات کے وقت ان لوگوں کو سرحد کے اندر دھکیلا جاتا ہے۔

یہ سلسلہ پچھلے کئی برس سے جاری ہے اور ایف آئی اے اس سلسلے میں کچھ کر نہیں پایا ہے۔ تاہم اب حکام کا کہنا ہے کہ اینٹی ٹریفکنگ یونٹ کے افسران کو صرف انسانی سمگلنگ روکنے کے حوالے سے امریکی ماہرین نے دو ہفتے کی تربیت دی ہے۔

ایف آئی اے کے سربراہ طارق پرویز کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ اس یونٹ کے قیام سے انسانی سمگلنگ روکنے میں مدد ملے گی۔

تا ہم ایف آئی اے حکام پرالزام لگایا جاتا ہے کہ وہ ملک کے ہوائی اڈوں پر رشوت لے کرلوگوں کو جعلی کاغذات پر بیرون ملک جانے دیتے ہیں۔ ان میں سے اکثر امریکہ،برطانیہ یا یورپی ممالک کے ہوائی اڈوں سے ہی واپس بھجوا دیے جاتے ہیں۔

ایف آئی اے کے سو سے زائد اہلکاروں کے خلاف اس قسم کے الزامات ہیں۔ ادارے کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان میں سے نوے سے زاید افراد کے خلاف تحقیقات ہو رہی ہیں۔

اسی بارے میں
عمان سے چھ سو پاکستانی واپس
10 November, 2004 | پاکستان
انسانوں کا سمگلر گرفتار
14 July, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد