BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 July, 2004, 15:26 GMT 20:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انسانوں کا سمگلر گرفتار

News image
گوجرانوالہ میں وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) نے قلعہ دیدار سنگھ کے سینتیس سالہ شخص کو گرفتار کیا ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے گزشتہ تین سال کےدوران تقریباً ساڑھے پانچ سو لوگوں کو غیرقانونی طور پر ایران، ترکی اور یونان بھجوایا۔

ایف آئی اے پاسپورٹ سرکل گوجرانوالہ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سید عارف بخاری نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزم احسان کے خلاف امیگریشن آرڈیننس کی دفعہ سترہ ذیلی دفعہ بائیس اور انسانی ٹریفکنگ آرڈیننس کی دفعہ تین کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور مزید تفتیش کے لیے سترہ جولائی تک اس کا جسمانی ریمانڈ لے لیا گیا ہے۔

کوئٹہ میں ایف آئی اے نے ایران اور ترکی سے ڈی پورٹ ہوکر آنے والوں کی تفتیش کے بعد اس ملزم کی اطلاع گوجرانوالہ ایف آئی اے کو دی تھی جسے گزشتہ دو ماہ سے تلاش کیا جارہا تھا اور پیر کے روز جی ٹی روڈ سے گرفتار کرلیا گیا۔

ایف آئی اے کے اہلکار کے مطابق ملک احسان گوجرانوالہ کے قریبی قصبہ قلعہ دیدار سنگھ کا رہنے والا ہے اور چھ بھائیوں میں دوسرا بڑا بھائی ہے۔ میٹرک پاس ملک احسان میونسپل کارپوریشن میں ملازم ہے اور پانچ سال کی چھٹی پر ہے۔ قصبہ کے لوگ اسے اس کی آئے روز خریدی گئی نئی گاڑیوں اور لوگوں کو باہر بھجوانے کی وجہ سے جانتے ہیں۔

ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے مطابق تفتیش کے دوران میں ملک احسان نے بتایا کہ اس نے زیادہ تر ارد گرد کے علاقوں حافظ آباد، ڈسکہ، کھاریاں، ڈنگا وغیرہ سے نوجوانوں کو غیر قانونی طور پر اصل پاسپورٹ کے بغیر صرف دو تصویروں پر ایران، ترکی اور یونان بھیجا۔

ملک احسان نے تفتیش کے دوران اپنے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ لوگوں کے اصل پاسپورٹ نہیں بنواتا تھا تاکہ ان کا اصل پتہ کبھی معلوم نہ ہوسکے۔

ملک احسان کے اقبالی بیان کے مطابق سندھ اور کراچی سے بہت سے لوگ عمرہ اور حج کے لیے جاتے ہیں اور اس کے بعد پاسپورٹ ان کے لیے کارآمد نہیں رہتے۔ملزم ایسے لوگوں سے ان کے پاسپورٹ خرید کر اس پر بھیجے جانے والے شخص کی تصویر لگوا کر جعلی پاسپورٹ ، جسے پی سی (فوٹو چینج) کہا جاتا ہے، بنوالیتا تھا تاکہ کوئی پکڑا جائے تو اس کا اصل پتہ کسی کو معلوم نہ ہو اور معاملہ الجھ جائے۔

ملزم کا طریقہ کار ایسا تھا جس پر لوگوں کو اعتماد تھا کیونکہ وہ سارے پیسے پیشگی نہیں لیتا تھا بلکہ ایک شخص ایران پہنچتا تو وہ گھر والوں کو ٹیلی فون کردیتا اور ا سکے گھر والے ملک احسان کو تیس ہزار روپے دے دیتے۔

اس کے بعد وہ شخص اگر ترکی پہنچ جاتا تو پھر گھر فون کرتا اور ملک احسان کو گھر والے ایک لاکھ بیس ہزار روپے دے دیتے۔

اس طریقہ سے جب کوئی شخص یونان پہنچ جاتا تو اطلاع ملنے پر اسکے گھر والے ملک احسان کو مزید دو لاکھ روپے ادا کردیتے۔ تاہم سب بھیجے جانے والے یونان تک نہیں پہنچتے تھے۔ جو یونان پہنچ جاتے تھے وہ کسی طرح اٹلی پہنچنے کی کوشش کرتے تھے۔

تاہم ملک احسان کے اقبالی بیان کے مطابق گزشتہ تین سال میں اس کے بھیجے ہوئے ساڑھے پانچ سو میں سے تین سو آدمی یونان پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔

ایف آئی اے کے مطابق کوئٹہ اور تفتان میں ملک احسان کے چار ایجنٹ موجود ہیں جو ایران بھجوانے کا کام کرتے تھے جبکہ ایران میں اس کے تین ساتھی ہیں جن کے نام حاتم، نوریز اور محمود ہیں۔

ایف آئی اے کے مطابق پنجاب کے دوسرے شہروں میں گاہکوں کو پھنسانے کے لیے ملک احسان کے بارہ ایجنٹ کام کررہے ہیں جن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد