پاکستان: سمگلنگ فہرست سے خارج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کا نام ان ممالک کی فہرست سے نکال دیا جو کہ انسانوں کی سمگلنگ میں ملوث ہیں۔ وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے کہا ہے کہ امریکہ نے اس بات پر پاکستان کی تعریف کی ہے کہ اس نے انسانوں کے سمگلنگ کے خلاف ہے موثر اقدامات کیے ہیں اور جدید دور کی اس غلامی کا خاتمہ کیا ہے۔ آفتاب خان شیرپاؤ کے مطابق پاکستان نے اپنے انسدای نظام کو بہتر بنایا ہے۔ ایشیا میں پاکستان انسانوں کی سمگلنگ کا سب سے اہم منتقلی مرکز تصور کیا جاتا ہے۔ آفتاب خان شیرپاؤ کو پاکستان میں مقیم امریکی سفیر ریان کروکر نےجمعرات کوانسانوں کی سمگلنگ کے بارے میں پانچویں رپورٹ کی کاپی پیش کی تھی۔ یہ رپورٹ جو جمعہ کو شائع ہوئی ہے ایک سو پچاس صحفوں پر مشتعمل انسدادِ سمگلنگ پر ایک اہم رپورٹ سمجھی جاتی ہے۔ وزیر داخلہ شیرپاؤ نے اسلام آباد میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ اس رپورٹ میں پاکستان کی کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے امریکہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے میں اس وبا کو کم کرنے کے لیے اچھے اقدامات کیے ہیں۔ اس رپورٹ میں انسانوں کی سمگلنگ کے خلاف نافذ کیے گے سخت قوانین کی تعریف کی ہے اور حال ہی میں قائم کردہ فیڈرل انویسٹیگیش ایجنسی کی انسدادِ سمگلنگ کے خاتمے کے لیے کاموں کو بھی سراہا ہے۔ امریکی سفیر کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں جو بہتر کام ہوئے ہیں وہ آئندہ سال میں اہم ثابت ہوسکتے ہیں۔ امریکی سفیر نے پاکستان سے اس بات کی توقع ظاہر کی ہے کہ وہ انسانی سمگلنگ کی اس وبا کو ختم کرنے میں امریکہ سے تعاون کرے گا۔ وزارت داخلہ کے مطابق سن دو ہزار چار میں تقریباً چھ سو پندرہ کیس انسدادِ سمگلنگ میں رجسٹر ہوئے تھےاور اس میں ملوث پانچ سو ایک افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ انسانوں کی سملگنگ کے کیس میں تریپن افراد کو سزا ہوئی اور دو سو اکسٹھ کے خلاف مقدمے درج ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس سن دو ہزار تین میں چار سو سولا کیس رجسٹر ہوئے تھے جن میں صرف چھ لوگوں کو سزا ہوئی اور تین سو پچاس افراد کے خلاف مقدمے درج کیے گئے۔ اس سال فروری میں کراچی میں ایک شخص کو انسانوں کی سمگلنگ میں ملوث ہونے کی بنا پر پانچ سو جعلی پاسپورٹوں کے ساتھ گرفتار کیا گیا۔ گزشتہ چار سالوں میں سلطنتِ عمان نے تیتس ہزار پاکستانیوں کو جعلی سفری دستاویزات کی بنا پر پاکستان واپس بھیجا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||