افریقہ میں انسانی سمگلنگ عروج پر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ کے ادارۂ برائے اطفال (یونیسیف) نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ انسانوں کی سمگلنگ کا مسئلہ ہر افریقی ملک کا مسئلہ ہے۔ یونیسیف کی رپورٹ جس میں 53 افریقی ممالک شامل ہیں کہا گیا ہے کہ اس مشکل صورتِ حال کا سب سے بڑا شکار بچے بن رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح بچوں کو غلام بنایا جاتا ہے، ننھے فوجیوں کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور کس طرح انہیں جسم فروشی کے لئے مجبور کیا جاتا ہے۔ افریقہ میں بچوں کی سمگلنگ کا خطرہ عورتوں کی سمگلنگ سے دوگنا ہے۔ سگلنگ کا ذمہ دار غربت، روایتی ہجرت اور لڑائی کو بتایا گیا ہے۔ سروے کیے گئے 23 فیصد ممالک نے کہا ہے کہ سمگل کیے ہوئے بچے مشرقِ وسطیٰ لے جائے جا رہے ہیں۔
لیکن بچوں کی اس تجارت کا رخ دونوں طرف ہے۔ مثلاً نائجیریا میں بارہ افریقی ممالک سے سمگل ہونے والے بچے لائے جاتے ہیں لیکن درجنوں ممالک میں نائجیریا سے سمگل شدہ بچے دیکھے گئے ہیں۔ اس تجارت میں ایک بڑا ہاتھ ان خاندانوں کا بھی ہے جو اسے جرم نہیں سمجھتے کہ ایک بڑے خاندان کی اقتصادی حالت بہتر بنانے کے لئے بچوں کو بیچ دیا جائے۔ یونیسیف اس رپورٹ کو بنین میں ہونے والی افریقی ممالک کے اجلاس میں پیش کر رہی ہے۔ اس سے امید کا جا رہی ہے کہ انسانی سمگلنگ کو روکنے کے لئے کوئی ایکشن پلان بنایا جائے تاکہ بچوں کے حقوق مستقبل کی پالیسی میں مرکزی حیثیت اختیار کرلیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||