بارات لے جانے کی اجازت دی جائے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک کشمیری پناہ گزیں خاندان نے پاکستانی رہنماؤں سے اپیل کی ہے کہ انھیں اپنے بیٹے کی برات وادی کشمیر لے جانے کی اجازت دی جائے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے فیاض احمد خان کی منگنی لائن آف کنڑول کے دوسری جانب بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں آباد اپنی پھپھی زاد سمائرہ بشیر سے گذشتہ سال ہوئی تھی ۔اب لڑکے والوں کا یہ مطالبہ ہے کہ بس کے ذریعے براتیوں کو وادی کشمیر سفر کرنے کی اجازت ملنی چاہیے۔ دسمبر سن دوہزار چار میں کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنڑول کے دونوں جانب فیاض احمد خان اور سمائرہ بشیر کے خاندان والے وادی نیلم میں دریا کے دونوں کناروں پر جمع ہوئے اور منگنی کی رسم ادا کی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب سرینگر اور مظفرآباد کے درمیان بس سروس کے امکان پر بات چیت ہورہی تھی اور منقسم کشمیری خاندان وادی نیلم میں مختلف مقامات پر دریائے نیلم کے دونوں کناروں پر کھڑے ہوکر ایک دوسرے کو دیکھتے اور بات کیا کرتے تھے۔ فیاض خان پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہیں جب کہ انکی ہونے والی بیوی سمائرہ لائن آف کنڑول کے دوسری جانب بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہیں۔ اب فیاض احمد خان کے خاندان والوں کا یہ ارادہ ہے کہ وہ روایتی طور پر بارات مظفرآباد سے وادی کشمیر لے کرجائیں اور وہاں سے دلہن لے آئیں۔ لیکن خان کے والد محمد اشرف کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے حکام کے نام پر اجازت کے لئے انکی تحریری درخواست کا بھی ابھی تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ میں نے’ مظفرآباد کے ڈپٹی کمشنر جن کو سرینگر اور مظفرآباد کے درمیان بس سروس کے مسافروں کو پرمٹ جاری کرنے کا اختیار دیا گیا ہے کو جون کے اوائل میں ایک درخواست دی جس میں ہم نے ان سے یہ درخواست کی کہ ہمیں اپنے بیٹے کی بارات بھارت کے زیر انتظام کشمیر لے کر جانے کی اجازت دی جائے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’اس درخواست کے ساتھ میں نے اپنے بیٹے سمیت پچیس باراتیوں کی فہرست بھی دی اور اس فہرست میں شامل تمام نے مارچ میں پرمٹ کے لئے اپنے درخواست فارم جمع کرائے ہیں۔‘ محمد اشرف کا کہنا ہے کہ ’تقریباً ڈیڑھ ماہ گزر گیا لیکن ہماری درخواست کا ابھی تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ہماری پاکستان حکومت سے صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز سے مودبانہ اپیل کرتے ہیں کہ ہمیں انسانی بنیادوں پر بیٹے کی بارات لے کر وادی کشمیر لے کر جانے دیں تا کہ ہم اس شادی کو انجام دیں سکیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ان کی والدہ کی عمر نوے سال ہے اور وہ بیمار رہتی ہیں ان کی یہ تمنا ہے کہ وہ پوتے اور نواسی کی شادی اپنے آنکھوں سے دیکھیں اور چودا سال سے بچھڑی ہوئی بیٹیوں سے ملاقات کرسکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں امید ہے کہ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف ہماری اپیل کو رد نہیں کریں گے۔‘ فیاض خان کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ وہ شادی کی تاریخ سفر کی اجازت ملنے کے بعد ہی طے کریں گے۔ خان اپنے والدین ، بھائی بہنوں اور دو چچاوؤں کے ہمراہ سن 1990 میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے کیرن گاؤں سے لائن آف کنڑول عبور کرکے کشمیر کے اس علاقے میں آکر مظفرآباد کے قریب ایک پناہ گزین کیمپ میں آباد ہوگئے جبکہ فیاض کی چار پھپھیاں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کیرن گاؤں میں ہی رہ گئیں۔ سن 1988 میں مسلح تحریک کے آغاز کے بعد اب تک ہزاروں کشمیری خاندانوں نے لائن آف کنڑول عبور کی اور وہ اب کشمیر کے اس علاقے میں حکومت کی جانب سے قائم مختلف پناہ گزین کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تین جنگوں اور سن 1988 میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مسلح تحریک کے باعث ہزاروں خاندان لائن آف کنڑول عبور کرکے پاکستان یا اسکے زیر انتظام کشمیر میں آباد ہوگئے ہیں۔ اب تک جتنے بھی منقسم خاندان کے افراد نے دونوں کشمیر کے درمیان سات اپریل سے شروع ہونے والی بس سروس کے ذریعے مظفرآباد سے وادی کشمیر کا سفر کیا ان میں سن نوے یا اسکے بعد آنے والے کشمیری پناہ گزینوں میں سے شائد ہی کوئی ہو۔ محمد اشرف مستقبل قریب میں اپنے بیٹے کے سر پر سہرا سجا کر بارات کے ساتھ وادی کشمیر کا رخ کرسکیں گے یا نہیں ، سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے یہ دیکھنا پڑے گا کہ سن نوے کے پناہ گزینوں کو بس پر سوار نہ کرنا محض ایک اتفاق ہے یا کسی طے شدہ حکومتی فیصلے کے تحت ایسا کیا جارہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||