نیلم کنارے منگنی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یوں تو سولہ سالہ فیضان کی منگنی میں تمام لوازمات پورے تھے۔ رشتہ دار بھی تقریباً سبھی موجود تھے۔ لیکن ایک بات ذرا عجیب ضرور تھی۔ اس منگنی میں نہ تو لڑکے والے لڑکی کو انگوٹھی پہنا سکے اور نہ ہی لڑکی والے ایسا کرسکے۔ وجہ یہ تھی کہ ان دونوں خاندانوں کے درمیان ، جو دریائے نیلم کے کنارے کیرن کے مقام پر اس منگنی کی تقریب میں اکھٹے ہوئے تھے، ایک دریا اور ایک ان دیکھی اور نہ ختم ہونے والی سرحد موجود تھی۔ کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنڑول پر اتوار کے روز ہونے والی اس عجیب اور غریب منگنی کی تقریب شاید کشمیر کی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہی ہو۔ یہ تقریب مظفرآباد کے شمال مشرق میں واقع وادی نیلم میں کیرن کے مقام پر دریا ئے نیلم پر ہوئی۔ کیرن کے مقام پر منقسم کشمیری خاندان دریا کے دونوں جانب کھڑے ہوکر ایک دوسرے کو دیکھنے اور بات کرنے کے لئے اکھٹےہوتے رہتے ہیں لیکن یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اس طرح کی تقریب انجام پائی۔ سولہ سالہ محمد فیضان خان کی اپنی پھوپھی زاد ثمائرہ بشیر سے ہونے والی اِس منگنی کی رسم میں نیلم کنارے دونوں طرف اکھٹے ہونے والے خاندان والوں کے چہروں پر مسکراہٹ کے ساتھ ساتھ آنسو بھی بہہ رہے تھے۔اور ہوتے بھی کیوں نا۔ لڑکے والے لڑکی کو جوڑا پہنا سکے اور نہ انگوٹھی۔
لڑکے والوں نے لڑکی کے لئے منگنی کا جوڑا اور انگوٹھی سمیت دیگر چیزیں رسیوں سے باندھ کر دریا کےاس پار پھینکی۔ ایسا کرنا ان کی مجبوری تھی کیونکہ درمیان میں دریا تھا اور پابندیاں تھیں۔ لائن آف کنڑول کے اُس جانب لڑکی کو دریا کے کنارے پر علامتی طور پر انگوٹھی پہنائی گئی۔ اور اِس جانب اس خوشی کے موقع پر مٹھائی تقسیم کی گئی اور ایک دوسرے کو دریا کے شور کے باعث اونچی آواز میں مبارکبادیں اور لڑکے اور لڑکی کے لئے دعائیں کی گئیں۔ لڑکی کی والدہ نے اپنے جذبات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کو ایک طرف یہ خوشی ہے کہ انکے بیٹے کی منگنی ان کی چاہت اور خواہش کے مطابق ہوئی اور دوسری طرف یہ دکھ ہے کہ وہ لڑکی کو نہ انگوٹھی پہنا سکے اور نہ ہی جوڑا۔ یہ رشتہ گذشتہ ماہ اسی دریا کے کنارے پر طے ہوا تھا جب فیضان کے والد اپنی بہنوں سے دیکھنے اور بات کرنے کے لئے یہاں جمع ہوئے تھے۔
فیضان کے والدین اور انکے دو چچا سن 1990 میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے لائن آف کنڑول عبور کرکے کشمیر کے اس علاقے میں آئے جبکہ اُن کی چار بہنیں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہی رہ گئیں۔ لڑکے کے والد کا کہنا ہے کہ وہ چار پانچ سال بعد شادی کریں گے اور ان کو یہ امید ہے کہ وہ یہ شادی اپنوں کے ساتھ اپنے گھر میں کریں گے۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمین تین جنگوں اور سن 1988 میں کشمیر میں مسلح تحریک کے باعث ہزاروں خاندان لائن آف کنڑول کے دونوں جانب بٹ کر رہ گئے ہیں۔ اور یہ ایک دوسرے سے ملنے کے لئے تڑپ رہے ہیں لیکن دونوں ملکوں کی سیاست کی گھن گرج میں یہ انسانی پہلو نظروں سے اوجھل رہا ۔ حال میں دونوں ملکوں کے درمیان بس سروس شروع کرنے پر بات چیت بے نتیجہ رہنے کے باعث بچھڑے ہوئے خاندانوں کو مایوسی تو ضرور ہوئی ہے لیکن گذشتہ پچاس سالوں کی طرح اب بھی ان کو یہ امید ہے کہ شاید ایک دن یہ دونوں ملک سیاست سے بالاتر ہوکر سوچیں گے اور کم از کم ان کے آپس میں ملنے کے لئے آسانیاں پیدا کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||