میران شاہ: فوجی ٹھکانوں پرحملے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ میں نامعلوم افراد نے سنیچر کی رات فوجی ٹھکانوں پر چھ راکٹوں سے حملہ کیا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ ادھر قریب ہی میرعلی میں علاقے کے داوڑ اور اتمانزئی قبائل کا ایک جرگہ اتوار کے روز منعقد ہو رہا ہے جس میں یہ قبائل خطے میں جاری فوجی کارروائیوں کے بارے میں کوئی متفقہ لائحہ عمل تیار کریں گے۔ راکٹ حملے سنیچر کو رات گئے ایک بجے کے بعد شروع ہوئے۔ پہلا راکٹ میران شاہ میں نیم فوجی ملیشیا کے کواٹر کی دیوار میں لگا، دوسرا مقامی وکیشنل کالج کے قریب جبکہ ایک مقامی گرڈ سٹیشن سے میران شاہ گاؤں، ماچس اور چشمہ کے علاقوں کو بجلی فراہم کرنے والی لائن کو لگا۔ اس راکٹ سے ان علاقوں کو بجلی کی ترسیل منقطح ہوگئی۔ ماضی میں افواہیں گردش میں رہی ہیں کہ اس وکیشنل کالج میں امریکی فوجی قیام پذیر ہیں۔ باقی تین راکٹ کھلے میدان میں گرے۔ ان میں سے ایک فوجی کیمپ سے تقریبا چالیس میٹر کی دوری پر آگرا۔ تاہم ان سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ فوجیوں نے لائٹ مشن گن سے راکٹ داغے جانے کی سمت فائرنگ کی لیکن حملہ آور رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب رہے۔ عینی شاہدین کے مطابق انہوں نے ٹھیک اسی وقت فضا میں کسی طیارے کی پرواز بھی سنی تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ طیارہ پاکستانی تھا یا نہیں۔ ان حملوں کے بعد علاقے میں سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ اس طرح کے راکٹ حملے اس سے قبل قریبی جنوبی وزیرستان میں القاعدہ اور طالبان کے مشتبہ افراد کے خلاف فوجی کارروائیوں کے دوران بھی ایک معمول رہے ہیں۔ ادھر میر علی میں مقامی قبائل کا ایک جرگہ اتور کو متوقع ہے جو فوجی کارروائیوں اور حکومتی مطالبات کے بارے میں غور کرے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||