BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 20 April, 2005, 09:46 GMT 14:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’میں اسامہ کو نہیں چھوڑوں گا‘

لیفٹینٹ جنرل صفدر حسین اور نیک محمد
لیفٹینٹ جنرل صفدر حسین مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں القاعدہ اور طالبان کے خلاف فوجی کارروائیوں کے سربراہ لیفٹینٹ جنرل صفدر حسین نے کہا ہے کہ اسامہ بن لادن پاکستانی علاقے میں ہرگز موجود نہیں ہیں اور ’اگر وہ ہے تو میں اسے چھوڑوں گا نہیں‘۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جنوبی وزیرستان میں فوجی کارروائیوں کے دوران عام شہریوں کو جانی یا مالی نقصان پہنچانے کے الزام میں کئی فوجیوں کو سزائیں بھی دی گئی ہیں۔

پشاور میں صحافیوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے لیفٹینٹ جنرل صفدر حسین نے ایسے فوجیوں کی تعداد یا مزید تفصیل بتانے سے گریز کیا تاہم اتنا کہا کہ عام شہریوں کی ہلاکت کے واقعات کی بریگیڈیر کی سطح کی دو تحقیقاتی کمیٹیاں جائزہ لیتی رہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس تحقیق کی روشنی میں کئی فوجی افسران کو کمانڈ سے ہٹایا گیا ہے، کئی کو سزائیں دی گئی ہیں، ان کی سینارٹی ختم کی گئی اور گھر بھیجا گیا ہے۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ فوج نے اپنے افسران کے خلاف کارروائی کی تصدیق کی ہے۔

شمالی وزیرستان میں کسی تازہ فوجی کارروائی کی خبروں کے بارے میں اعلیٰ فوجی کمانڈر کا کہنا تھا کہ ایسا کا کوئی پروگرام نہیں ہے کیونکہ ان کے پاس ابھی ایسی کوئی اطلاع نہیں کہ جس کی بنیاد پر شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی شروع کی جاسکے۔ ان کہ مطابق اس سلسلے میں امریکی فوجی حکام کا بیان غیرضروری تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اکا دکا مقامات پر القاعدہ کے افراد کی موجودگی کی خبریں ملتی رہتی ہیں لیکن یہ کوئی منظم گروپ نہیں اور نہ وہ انہیں منظم ہونے دیں گے۔

’میرے پاس ایسی کوئی رپورٹ نہیں جس کی بنیاد پر ہم کوئی کارروائی کر سکیں۔ لیکن اگر ایسی کوئی اطلاع ملی تو کارروائی ضرور کی جائے گی‘۔

انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ اس مسئلہ کا حل بات چیت کے ذریعے بغیر گولی چلائے حاصل کیا جا سکے۔

کور کمانڈر نے افغانستان میں اتحادی افواج کے سربراہ لیفٹینٹ جنرل ڈیوڈ بارنو کے اس بیان کی مذمت کی جس میں شمالی وزیرستان میں جلد کسی فوجی کارروائی کے آغاز کا دعوی کیا گیا تھا۔

تاہم لیفٹینٹ جنرل صفدر حسین نے الزام لگایا کہ افغانستان سے دراندازی کی جا رہی ہے اور اسلحہ لایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’جنرل بارنو کو اپنے علاقے کی بہتر نگرانی کی ضرورت ہے‘۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسامہ پاکستانی علاقے میں ہرگز نہیں ہیں اتنا وہ پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے ہیں۔ ’اگر وہ ہے تو میں اسے چھوڑوں گا نہیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ افغانستان کے ساتھ چھ سو کلومیٹر طویل سرحد پر انہوں نے ساڑھے چھ سو سے زائد چوکیاں قائم کر دی ہیں جبکہ افغانستان کی صرف چھیاسٹھ چوکیاں ہیں۔

لیفٹینٹ جنرل صفدر حسین نے قبائلی جنگجو عبداللہ محسود کے بارے میں کہا کہ وہ زندہ ہے اور بھاگ رہا ہے۔

’اسے کوئی رکھنے کے لئے تیار نہیں۔ اس کے ساتھی بھی اسے چھوڑ کر چلے گئے ہیں اور وہ تنہا رہ گیا ہے۔اس نے اپنے ہلاک ہونے کی افواہ بھی اس لئے پھیلائی کہ خفیہ ایجنسیاں اس کا پیچھا چھوڑ دیں‘۔

اس سوال کے جواب میں کہ حکومت وزیرستان میں غیرسرکاری تنظیموں کو اب جب امن آگیا ہے کام کرنے کی اجازت دے گی تو انہوں نے کہا کہ انہیں این جی اوز کی ضرورت نہیں۔ ’سب کام فوج کرے گی اس کے پاس فنڈز بھی مناسب موجود ہیں‘۔

انہوں نے قبائلی علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کا بھی تفصیلی ذکر کیا اور بتایا کہ اب تک اکاسی کروڑ روپے سے زائد رقم کے منصوبے مکمل کئے جاچکے ہیں جبکہ مزید کام جاری ہے۔

66شیخ رشید کا کہا
’اسامہ کی حالیہ ٹیپ کی سی ڈی وانا میں بنی تھی‘
665 کروڑ کہاں گئے؟
’ہمیں کچھ نہیں ملا‘: سرداروں کا شکوہ
66صحافت کی چاندی
وانا کے صحافی دنیا کو پل پل کی خبریں دےرہے ہیں
66 گوریلا جنگ جاری
پاکستان فوج کو گوریلا جنگ کا سامنا ہے۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد