مبشر زیدی بی بی سی اردو ڈاٹ کام،اسلام آباد |  |
 |  شمالی وزیرستان میں آپریشن کا فیصلہ پاکستان خود کرے گا کہ اسے کہا اور کب کیا کرنا ہے۔ |
پاکستان نے افغانستان اور امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان سے پاکستان کی سرحد پار کرنے والے مبینہ شدت پسندوں کی بڑھتی ہوئی نقل و حرکت کو روکے۔ فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کی طرف سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے پیر کو اسلام آباد میں ہونے والے سہ فریقی کمیشن جس میں پاکستان،افغانستان اور امریکہ شامل ہیں، امریکی اور افغانی حکام کے توجہ اس امر کی طرف دلائی گئی ہے کہ ان واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ فوج کے ترجمان نے افغانستان میں اتحادی فوج کے سربراہ جنرل ڈیوڈ بارنو کے اس بیان پر تبصرہ بھی کی ہے کہ پاکستانی فوج جنوبی وزیرستان کے بعد شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ترجمان کے مطابق اس بات کا فیصلہ پاکستان خود کرے گا کہ اسے کہا اور کب کیا کرنا ہے۔ کل اسلام آباد میں سہ فریقی کمیشن کے اجلاس کے بعد افغانستان میں اتحادی فوج کے سربراہ نے امریکی سفارتخانے میں پاکستانی صحافیوں کے ایک گروپ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے بعد پاکستان کی سیکیورٹی فورسز شمالی وزیرستان میں بھی ایک فوجی آپریشن شروع کرنے کی تیاریاں کر رہی ہیں۔ جنوبی وزیرستان میں گذشتہ دو سالوں میں سو سے زائد پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ اتحادی فوج کے سربراہ نے کہا تھا کہ پاکستان نے اپنی سیکیورٹی فورسز کو شمالی وزیرستان کی طرف اکٹھا کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک پر دباؤ بڑھایا جائے۔انہوں نے کہا کہ اتحادی افواج اس آپریشن کے ساتھ ہی افغانستان میں بھی آپریشن کریں گی۔ پاکستانی حکام نے جنرل بارنو کے دعوے کی مکمل طور پر تردید نہیں کی ہے کہ پاکستان شمالی وزیرستان میں آپریشن کرے گا یا نہیں اور نہ ہی وہ اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ پاکستان کی فوج کی شمالی وزیرستان کی طرف نقل و حرکت بڑھ رہی ہے۔ |