وزیرستان: پولیٹکل ایجنٹ زخمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے پولیٹکل ایجنٹ عصمت اللہ گنڈاپور ٹانک شہر کے قریب سڑک کے کنارے نصب بارودی سرنگ کے دھماکے میں زخمی ہوئے ہیں۔ ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ البتہ ان کے ڈرائیور کو شدید چوٹیں آئیں ہیں۔ ٹانک پولیس کے مطابق یہ واقعہ وانا جانے والی شاہراہ پر ٹانک سے تقریباً چھ کلومیٹر دور کریانہ پل کے قریب پیش آیا ہے۔ پولیٹکل ایجنٹ سینیٹ کی پانی اور بجلی سے متعلق قائمہ کمیٹی کے دس اراکین کے ہمراہ گومل زام ڈیم منصوبے کا دورہ کر کے واپس لوٹ رہے تھے کہ یہ واقعہ پیش آیا۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق پولیٹکل ایجنٹ ارکانِ سینیٹ کی گاڑیوں کے قافلے کے آخر میں آ رہے تھے کہ سڑک کے کنارے نصب باردوی سرنگ کو ریمورٹ کنٹرول سے اڑا دیا گیا۔ دھماکے سے پولیٹکل ایجنٹ کو ٹانگوں پر چوٹیں آئیں جبکہ ان کے ڈرائیور میرزالی شابی خیل شدید زخمی ہوگئے۔ دونوں کو ٹانک کے ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے جہاں عصمت اللہ کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ سینیٹ کمیٹی کے دس ارکان اس دھماکے میں محفوظ رہے۔ پولیس حکام کے مطابق پی اے کو اس سے قبل بھی دھمکیاں مل چکی تھی اور انہیں محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ گومل زام ڈیم پر کام گزشتہ اکتوبر میں دو چینی انجینیئروں کے اغواء کے واقعات کے بعد سے بند ہے۔ اغواء کے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کرنے والے قبائلی جنگجو عبداللہ محسود نے ایک روز قبل ہی ہتھیار ڈالنے کی سرکاری شرط مسترد کرتے ہوئے سرکاری اہداف پر حملوں کا اعلان کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||