عبداللہ: سر کی قیمت پچاس لاکھ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حکام نے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں چینی انجینیروں کے اغوا اور فوجیوں پر حملوں میں ملوث جنگجو عبداللہ محسود کی گرفتاری میں مدد پر پچاس لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا ہے۔ اس انعام کا اعلان فوجی حکام نے آج پشاور میں کیا ہے البتہ اس کا فیصلہ جمعرات کے روز محسود قبائل کی دو شاخوں شابی خیل اور شمن خیل کے عمائدین کے ساتھ پشاور میں ملاقاتوں میں کیا گیا تھا۔ اس اعلان سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی حکام اس سال اکتوبر میں دو چینی انجینیروں کے اغوا اور فوجیوں پر حملوں میں ملوث عبداللہ سے کسی قسم کے امن معاہدے کی خواہش مند نہیں ہے۔ البتہ عبداللہ نے بی بی سی کے ساتھ آخری انٹرویومیں پشاور کےکور کمانڈر،لیفٹینٹ جنرل صفدر حسین، کے ساتھ ایک ملاقات میں معاہدہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ ملاقات میں کور کمانڈر نے عمائدین پر یہ بھی واضع کیا کہ وہ چاہتے ہیں کہ عبداللہ غیرمشروط طور پر ہتھیار ڈال دیں۔ البتہ ابھی تک عبداللہ کی جانب سے اس قسم کا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے کہ وہ ہتھیار ڈالنے کی سوچ رہے ہیں۔ یاد رہے کہ انتیس سالہ عبداللہ گومل زام ڈیم سے منسلک دو چینی انجینیروں کے اغوا کے سلسلے میں مطلوب ہیں۔ بعد میں ان چینیوں کو بازیاب کرانے کی کوشش میں ایک چینی اور پانچ اغوا کار ہلاک ہوگئے تھے۔ بظاہر یہ انعام عبداللہ کو زندہ یا مردہ گرفتار کرنے کے لیے ہے لیکن فوجی حکام کے بقول ان کی کوشش ہو گی کہ وہ عبدا للہ کو زندہ گرفتار کریں تاکہ ان سے زیادہ سے زیادہ معلومات اکھٹی کی جاسکیں۔ محسود قبائل کے حکومت سے تعاون کےمعاہدہ کو اس لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ حکام کے خیال میں عبداللہ محسود، اس کے ساتھی اور القاعدہ کے مشتبہ غیرملکی عناصر محسود قبائل کے علاقوں میں یا اس کے اردگرد کہیں روپوش ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ قبائل کی اس یقین دہانی کے بعد فوج کو علاقے میں کارروائی کرنے میں مدد ملے گی، خاص طور پر جنوبی وزیرستان کے اس علاقے میں جہاں پرابھی تک حکام نے کاروائی نہیں کی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||