عبداللہ: آخری دم تک لڑنے کا عزم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں القاعدہ کے خلاف فوجی کارروائیوں کی مزاحمت کر رہے مقامی جنگجو عبداللہ محسود نے ایک مرتبہ پھر حکومت پر اس ماہ کی آٹھ تاریخ کو ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے اپنے حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ بی بی سی کے ساتھ کسی نامعلوم مقام سے ایک انٹرویو میں چینی انجینروں کے اغوا میں مطلوب عبداللہ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ انہوں نے خود کور کمانڈر پشاور لیفٹینٹ جنرل صفدر حسین کے ساتھ ایک ملاقات میں کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات کور کمانڈر کے کہنے پر کرنل یعقوب نامی ایک فوجی افسر کے توسط سے ممکن ہوئی تھی۔ یہ عبداللہ محسود اور اعلی فوجی قیادت کے درمیان اب تک کی پہلی آمنے سامنے ملاقات تھی۔ البتہ فوجی حکام کی جانب سے اس ملاقات یا معاہدے کے بارے میں ابھی تک کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔ عبداللہ سے اس کے مکان اور گاؤں پر فوجیوں کے قبضے کی بات کی تو اس نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سارے وزیرستان پر قبضہ کر سکتی ہے ہم اس سے انکار نہیں کرسکتے لیکن جو پالیسی انہوں نے اپنا رکھی ہے اس سے ان کا یہاں سے نکالنا مشکل ہوجائے گا۔ حکومت کے اس مطالبے کے بارے میں کہ عبداللہ بھی احمدزئی وزیر قبائل کے پانچ مطلوب افراد کی تقلید کرے، اس کا کہنا تھا کہ وہ معاہدہ بھی ٹوٹ چکا ہے کیونکہ اس کے چند روز بعد فوج نے پھر معصوم لوگوں کا قتل کیا۔ عبداللہ نے اپنے آخری دم تک لڑنے کے عزم کو ایک مرتبہ پھر دہرایا۔ عبداللہ نے ایک مرتبہ پھر حکومت پر امریکی ایماء پر فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کا الزام بھی لگایا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||