دہشت گردی: تعاون پر اتفاق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور افغانستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں دوطرفہ تعاون وسیع کرنے اور دونوں ممالک کے درمیاں قریبی رابطہ رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس ضمن میں دونوں ممالک نے رضامندی ظاہر کی ہے کہ سال میں کم سے کم دو مرتبہ وزراء خارجہ اور سیکریٹری خارجہ ایک دوسرے کے ممالک کا دورہ کریں گے۔ اس بات کا اعلان بدھ کے روز افغانستان کے وزیر خارجہ عبداللہ عبداللہ اور پاکستان کے وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کے مابین ملاقات کے بعد کیا گیا۔ پاکستان کے تین روزہ دورے پر آئے ہوئے افغان وزیر خارجہ نے منگل کے روز پاکستانی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری اور وزیر خزانہ شوکت عزیز سے ملاقات کی تھی ۔ وزیراعظم سے ملاقات میں افغان وزیر نے یقین دلایا کہ ان کے ملک میں قید پاکستانیوں کو جلد رہا کیا جائے گا۔ ملاقات میں تجارتی تعاون کے فروغ اور کابل میں پاکستانی بینکوں کی مزید برانچیں کھولنے سمیت دوطرفہ دلچسپی کے کئی امور پر بات چیت کی گئی۔ واضح رہے کہ منگل کی شب اخباری کانفرنس میں عبداللہ عبداللہ نے کہا تھا کہ طالبان سمیت جو بھی ان کی حکومت کے خلاف ہیں انہیں نو اکتوبر کے مجوزہ صدارتی انتخابات اور سیاسی عمل میں شریک نہیں کریں گے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں رہائش پذیر افغان پناہ گزینوں کو ووٹ کا حق دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ افغان وزیر نے شدت پسندوں کے خلاف پاکستان کی کاروائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ پاکستان نہ صرف اپنے بلکہ افغانستان کے دشمنوں کے خلاف بھی قبائلی علاقوں بالخصوص وانا میں کارروائی کر رہا ہے۔ افغان وزیر کی پاکستان میں موجودگی کے دوران امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ آرمیٹیج بھی پاکستان میں ہونگے لیکن اس موقع پر سہ فریقی بات چیت کے کسی بھی امکان کو دفتر خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے مسترد کردیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||