BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 December, 2004, 12:31 GMT 17:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
معافی نہیں مانگی: بیت اللہ محسود

بیت اللہ محسود جنگجؤ قبائل کے سردار ہیں
بیت اللہ محسود جنگجؤ قبائل کے سردار ہیں
پاکستان میں جنوبی وزیرستان کے محسود علاقے میں جنگجوؤں کے سربراہ بیت اللہ محسود نے اس سرکاری بیان کی تردید کی ہے جس میں حکومت نے ان کی معافی کی درخواست مسترد کرنے کا دعوی کیا ہے۔

کسی نامعلوم مقام سے ٹیلفون پر بات کرتے ہوئے، تیس سالہ بیت اللہ محسود کا یہ ذرائع ابلاغ کے ساتھ پہلا انٹرویو تھا۔

قبائلی جنگجوؤں کے امیر نے بتایا کہ انہوں نے معافی کی درخواست نہیں دی ہے۔ البتہ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ حکومت کے ساتھ قبیلے کے توسط سے مذاکرات جاری ضرور ہیں۔ انہوں نے حالیہ جنگ بندی کی وجہ بھی ان ہی مذاکرات کو قرار دیا۔

قبائلی علاقوں میں سکیورٹی کے نگران برگیڈیر ریٹائرڈ محمود شاہ نے جمعرات کے روز پشاور میں صحافیوں سے بات چیت میں کہا تھا کہ حکومت نے عبداللہ اور دیگر جنگجوؤں کی ہتھیار ڈالنے کی مشروط پیشکش مسترد کر دی ہے۔

ان کا دعوی تھا کہ ان جنگجوؤں نے معافی کے بدلے ہتھیار ڈالنے کی بات کی تھی جبکہ حکومت کا اصرار ہے کہ وہ غیرمشروط طور پر اپنے آپ کو حکام کے حوالے کریں۔

حکومت نے گزشتہ دنوں ان میں سے ایک مطلوب عبداللہ کی گرفتاری میں مدد پر پچاس لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا تھا۔

بیت اللہ کا کہنا تھا کہ ظلم ان کے ساتھ ہو رہا ہے، بمباری ان پر ہو رہی ہے اور ان کے وطن کو تباہ کیا جا رہا ہے تو وہ کس بات کی معافی مانگیں۔

افغانستان میں طالبان مخالف قوتوں کے خلاف لڑائی کا تجربہ رکھنے والے بیت اللہ نے واضع کیا کہ وہ پاکستانی فوج کے ساتھ تصادم کے حق میں نہیں کیونکہ اس کا فائدہ بقول ان کے امریکہ، شمالی اتحاد یا بھارت کو ہوسکتا ہے اُنہیں نہیں۔

دو چینی انجینروں کے اغوا میں ملوث عبداللہ محسود کے برعکس بیت اللہ محسود اب تک ذرائع ابلاغ سے اپنے آپ کو دور رکھے ہوئے تھے۔ یہ معلوم نہیں کہ ان کے اس اچانک رویے میں تبدیلی کی کیا وجہ ہے۔

بیت اللہ کا کہنا تھا کہ معافی مانگ کر وہ اپنے جہاد کی بے عزتی نہیں کریں گے۔

ادھر جنوبی وزیرستان کے محسود علاقے مکین میں آج سکیورٹی دستوں نے مقامی قبائل کی مدد سے چھ غیرملکی افراد کو گرفتار کرنے کی تصدیق کی ہے۔ حکام کے مطابق ان افراد سے تفتیش کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے وہ ان کی قومیت نہیں بتا سکتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد