وانا: دو ’حکومت نواز‘ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا کے بازار میں آج نامعلوم حملہ آوروں نے گولیاں مار کر دو افراد کو ہلاک کر دیا۔ خیال ہے کہ یہ ہلاکتیں بھی علاقے میں حکومت نواز عناصر کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے۔ جنوبی وزیرستان میں کسی حکومت نواز شخص کی ہلاکت کا یہ تازہ واقعہ سنیچر کی صبح صدر مقام وانا کے رستم بازار میں پیش آیا۔ مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے آٹھ بجے تین مسلح نامعلوم افراد نے بازار میں تیارزہ کے علاقے سے تعلق رکھنے والے حیات اللہ اور اس کے بیٹے پیر عالم کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ حملہ آور بعد میں گاڑی میں فرار ہونے میں کامیاب رہے۔ ابتدائی طور پر اس ہلاکت کی وجہ پوری طرح واضح نہیں لیکن مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے نے تیارزہ کے علاقے میں گزشتہ دنوں القاعدہ کے مشتبہ افراد کے خلاف ایک کارروائی میں ان کی مدد کی تھی۔ ہلاک ہونے والا شخص کا تعلق محسود قبیلے سے تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ مرنے والے کو حکام کے مدد کے صلے میں ایک سرکاری نوکری انعام میں بھی دی گئی تھی۔ اس سے قبل مکین کے علاقے میں نامعلوم افراد نے ایک قبائلی ملک ابراہیم محسود کو ان کے گھر کے باہر گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ وہ حکومت نواز مکین امن کمیٹی کے نائب سربراہ تھے۔ ادھر حکومت کی جانب سے قبائلی جنگجوؤں بیت اللہ محسود اور عبداللہ محسود کو ہتھیار ڈالنے کی چھبیس جنوری تک کی مہلت کو گزرے تین روز ہوچکے ہیں لیکن ابھی تک اس بابت کسی بیش رفت کے کوئی اشارے نہیں ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بیت اللہ کے ساتھ جوکہ حکومت کی عام معافی کی پیشکش سے فائدہ اٹھانے کے حق میں ہیں مقامی قبائلی جرگہ مذاکرات میں مصروف ہے۔ تاہم عبداللہ کے بارے میں صورتحال واضح نہیں۔ ادھر کور کمانڈر پشاور لیفٹینٹ جنرل صفدر حسین نے ہنگو میں قبائلیوں سے خطاب میں دعویٰ کیا کہ وزیرستان میں عسکریت پسندوں کی تمام پناہ گاہیں ختم کر دی گئی ہیں البتہ کسی بھی معتبر اطلاع پر مزید کارروائیاں کی جا سکتی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||