BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 18 April, 2005, 19:21 GMT 00:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شمالی وزیرستان: حملے کی تیاری

News image
جنوبی وزیرستان میں گزشتہ دو سالوں میں سو سے زائد پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے
افغانستان میں اتحادی افواج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ڈیوڈ بارنو نے کہا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے بعد پاکستان کی سیکیورٹی فورسز شمالی وزیرستان میں بھی ایک فوجی آپریشن شروع کرنے کی تیاریاں کر رہی ہیں۔

جنوبی وزیرستان میں گزشتہ دو سالوں میں سو سے زائد پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ حکام کے مطابق ڈھائی سو سے زائد مبینہ دہشت گردوں کو اس علاقے میں ہلاک کیا جا چکا ہے۔

اتحادی فوج کے سربراہ نے اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے میں پاکستانی صحافیوں کے ایک گروپ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پیر کو پاکستان، افغانستان اورامریکہ کے سہ فریقی کمیشن کا اجلاس ہوا جس میں جنرل بارنو کے مطابق اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دہشت گردوں کے خلاف شمالی وزیرستان میں بھی آپریشن کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنی سیکیورٹی فورسز کو شمالی وزیرستان کی طرف اکٹھا کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک پر دباؤ بڑھایا جائے۔انہوں نے کہا کہ اتحادی افواج اس آپریشن کے ساتھ ہی افغانستان میں بھی آپریشن کریں گی۔

جب اس سلسلے میں پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے اس کہا کہ وہ پیر کی شب پاکستان واپس پہنچے ہیں اور وہ اس بارے میں منگل کو ہی اپنا رد عمل دے سکیں گے۔

ادھر جنرل بارنو کا کہنا ہے کہ اگلے چھ سے نو ماہ کے دوران طالبان اور القائدہ کوئی بڑا حملہ کر سکتے ہیں۔انھوں نے دعوی کیا کہ طالبان اور القائدہ کا گزشتہ چند سالوں سے سردیوں میں اپنے حملوں کی شدت میں کمی کرتے ہیں مگر بہار آتے ہی ان کے حملوں میں تیزی آ جاتی ہے۔

جنرل بارنو نے یہ بھی بتایا کہ افغانستان میں نیٹو کی موجودہ فوجی قوت میں بھی یکم جون سے اضافہ کیا جا رہا ہے جس کے بعد شمالی افغانستان اور مغربی افغانستان میں بھی نیٹو کے دستے تعینات کئے جائیں گے۔

اسامہ بن لادن کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ وہ بدستور ایک انٹیلیجنس چیلنج ہیں مگر ان کی تلاش مؤخر نہیں کی جائے گی۔

افغانستان میں پوست کی کاشت کے بارے میں جنرل بارنو کا کہنا تھا کہ گزشتہ تین ماہ میں پوست کی کاشت میں کمی دیکھنے میں آئی ہے جس کا اعتراف اقوام متحدہ نے بھی کیا ہے۔

جنرل بارنو کے مطابق افغانستان کے صدر حامد کرزئی اور حکومت نے اس مسئلے کے حل کے لئے اقدامات کئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد