پانچ کروڑ کہاں گئے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وانا کےمبینہ شدت پسندوں حاجی محمد عمر، حاجی شریف خان، مولوی محمد عباس اور جاوید خان کرمزخیل نے اس بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے کہ فوج کی جانب سے انہیں پانچ کروڑ روپے ادا کیے گئے ہیں۔ ان افراد نے بات سے بھی انکار کیا ہے کہ وہ القاعدہ کے قرض دار ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے میں القاعدہ کا وجود تک نہیں ہے۔ ان افراد نے بی بی سی کے تجزیہ نگار رحیم اللہ یوسف زئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ہوا تھا کہ حکومت فوجی کارروائی کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کا ازالہ کرے گی۔اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے انہیں بیالیس لاکھ روپے ادا کیے گئے ہیں جو کہ تقریباً آٹھ لاکھ روپے فی کس بنتے ہیں۔ ان افراد نے یہ بھی بتایا کہ فوجی کارروائی میں ہونے والے نقصان کا اندازہ پندرہ کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ کور کمانڈر نے شکئی میں اعلان کیا تھا کہ زرِ تلافی کے طور پر نو کروڑ روپے ادا کیے جائیں گے اور وہ رقم تا حال ادا نہیں کی گئی ہے۔ بی بی سی کے تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ بہت حیران کن بات ہے کہ آئی ایس پی آر اور وانا کے رہائشیوں کے بیانات میں واضح تضاد پایا جاتا ہے اور وانا کے باشندے اس بات پر حیران ہیں کہ پانچ کروڑ کی رقم آخر گئی کہاں؟۔ رحیم اللہ یوسف زئی نے یہ بھی بتایا کہ وانا کے چھ رکنی جرگے کے سربراہ انعام اللہ وزیر کا کہنا ہے کہ وانا میں کسی کو کوئی رقم ادا نہیں کی گئی ہے اور کیے گئے امن معاہدے کی کچھ شرائط بھی ابھی تک پوری نہیں کی گئی ہیں۔ جرگے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ رام چینہ اور نیرا نزائی کے مقامات سے فوجی چوکیاں ہٹا لی جائیں گی مگر اس بات پر ابھی تک عمل نہیں کیا گیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت نے جن افراد کی رہائی کا وعدہ کیا تھا ان میں سے سات افراد ابھی تک جیل میں ہیں جبکہ فوجی کارروائی میں مرنے والے پچپن قبائلیوں کے لواحقین کو بھی معاوضے کی رقم ادا نہیں کی گئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||