BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 February, 2005, 11:31 GMT 16:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکومت نے القاعدہ کا قرضہ چکایا

 القاعدہ کی تلاش میں قبائلی علاقوں میں کارروائی
القاعدہ کی تلاش میں قبائلی علاقوں میں کارروائی
پاکستان میں فوجی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے مقامی قبائلی جنگجووں کو بڑی رقم القاعدہ کا قرضہ چکانے کے لیے ادا کی تھی۔

پشاور میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کور کمانڈر لیفٹینٹ جنرل صفدر حسین نے بتایا کہ اس معاہدے کے تحت حکومت نے چار قبائلی عسکریت پسندوں کو القاعدہ کا قرضہ ادا کرنے کے لیے تین کڑوڑ روپے سے زائد کی رقم ادا کی۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ حکومت نے القاعدہ کے ارکان سے جان چھڑانے کے لیے ان قبائلیوں کو اتنی خطیر رقم ادا کرنے کا دعوی کیا ہے۔

کور کمانڈر کے بقول ماضی کے حکومت کو القاعدہ کی مدد کے الزام میں انتہائی مطلوب قبائلیوں حاجی شریف اور مولوی عباس کو ڈیڑھ ڈیڑھ کڑوڑ روپے جبکہ مولوی جاوید کرمزخیل اور حاجی عمر کو دس دس لاکھ روپے نقد ادا کئے گئے تھے۔
یہ ادائیگی حالیہ دنوں میں کی گئی ہیں۔

کور کمانڈر نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ان افراد نے ابتدائی طور پر قرضہ اتارنے کے لئے ایک کڑوڑ ستر لاکھ روپے کا تقاضہ کیا تھا۔

صفدر حسین نے بیت اللہ محسود کو بھی دو کڑوڑ روپے کی پیشکش کی تھی لیکن اس نے اسے ٹھکرا دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ پیشکش اس لیے کی کہ شاید کہیں اسے بھی القاعدہ کا قرضہ اتارنا نہ ہو۔

وانا میں عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ انہیں ان افراد کو صرف آٹھ آٹھ لاکھ روپے ادا ہونے کی خبر ہے۔ البتہ ابھی اس خبر کے بارے میں ان افراد کا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد