القاعدہ کے شبہے میں گرفتاریاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے شمالی ضلع سوات میں حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے اتوار کے روز تین افراد کو القاعدہ کے ساتھ روابط کے شبہ میں گرفتار کیا ہے۔ خیال ہے کہ ان میں ایک صدر پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے میں ملوث ہے۔ حکام کے مطابق پولیس کی ایک پارٹی نے جسے فوجی مدد بھی حاصل تھی اتوار کی صبح سوات میں مٹا کے علاقے میں شوار نامی گاؤں میں محمد رحیم نامی ایک شخص کے مکان پر چھاپہ مارا۔ کارروائی کے دوران محمد رحیم، اس کے بیٹے عمر رحمان اور ان کے ایک مہمان کو حراست میں لے لیا گیا۔ پولیس نے اس مکان سے اسلحہ، گولہ بارود اور مواصلاتی آلات بھی برآمد کیے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ محمد رحیم اور اس کا بیٹا کسی مشکوک کارروائی میں ملوث نظر نہیں آتے تھے لیکن ان کے مہمان کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ حکام بھی اس مہمان کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں بتا رہے ہیں۔ اس سے قبل فروری میں بھی اس گاؤں میں ایک چھاپہ مارا گیا تھا تاہم اس وقت پولیس کے ہاتھ کوئی نہیں آیا تھا۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ گرفتار افراد میں سے ایک صدر پرویز مشرف پر گزشتہ برس قاتلانہ حملے میں ملوث ہے۔ صوبہ سرحد کی وادی سوات سیاحت کے لیے مشہور ہے لیکن اس قسم کی کارروائی کا غالباً یہ پہلا واقعہ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||