پاکستان:حملوں کی مبینہ سازش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ایوان صدر، امریکی سفارتخانہ، آرمی ہیڈ کوارٹر اور دیگر اہم مقامات پر خود کش حملوں کی ایک مبینہ سازش بے نقاب کی گئی ہے اور متعدد ملزمان گرفتار کیے گیے ہیں۔ پاکستانی وزیرِ اطلارات شیخ رشید نے اس سلسلے میں بی بی سی کو بتایا ہے کہ چار پانچ افراد گرفتار کیے گئے ہیں اور اس سازش کو تیار کرنے والے دو مصری نژاد افراد کی تلاش جاری ہے۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ملزمان سے پچاس ڈیٹونیٹر، راکٹ، راکٹ لانچر، کلاشنکوف اور بڑی مقدار میں آتش گیر مادہ برآمد کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تمام ملزمان کو راولپنڈی اور اس کے نواح سے گرفتار کیا گیا ہے۔ وزیر اطلاعات نے مبینہ سازش کی تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ اس منصوبے کے مطابق صدر کی رہائش گاہ ایوانِ صدر، امریکی سفارتخانے، جی ایچ کیو (جنرل ملٹری ہیڈ کوارٹر) کے آڈیٹوریم، اور لال حویلی (خود وزیرِاطلاعات کی ذاتی رہائش گاہ) کو اڑانے کا منصوبہ تھا۔ بی بی سی کے نامہ نگار ظفر عباس کے مطابق قبل ازیں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مبینہ ہدف مقامات میں اس سینٹر کا بھی نام لیا جہاں پاکستان کے یومِ آزادی پر چودہ اگست کو ہونے والی تقریب میں صدر، وزیراعظم چوہدری شجاعت اور ملک کے دیگر اہم افراد کو بھی موجود ہونا تھا۔ ان کا کہنا ہے تھا کہ تمام لوگوں کو ان کے لیے مخصوص مقامات تک پہنچا دیا گیا تھا اور ان کی فرائص بھی انہیں بتا دیے گئے تھے۔ انہوں نے انکشاف کیا اس منصوبے میں ایک شخص غازی صاحب بھی ملوث تھے اور وہ ملزمان کے لیے گاڑیوں اور ٹیلی فون سم کے سلسلے میں ملوث تھے۔ وزیر اطلاعات کے مطابق ان لوگوں نے دو مختلف گروہوں میں حملے کرنے کی سازش تیار کی تھی۔ ملزمان کے القاعدہ سے تعلق کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ دیگر لوگوں کے بارے میں تو کچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم جن دو مصری افراد کو تلاش کیا جا رہا ہے انہیں تو القاعدہ ہی سے منسلک کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ صورتِ حال مزید چند روز میں واضح ہو جائے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||