پاکستان: القاعدہ اجلاس کی تردید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے امریکی جریدے ٹائم میگزین میں صدر مشرف کے حوالے سے القاعدہ کے ’سربراہ‘ اجلاس کے بارے میں چھپنے والی خبر کو ’فکشنل‘ یا خیالی قرار دیا ہے۔ میجر جنرل شوکت سلطان نے بی بی سی سے انٹرویو میں اس بات کی تردید کی ہے کہ القاعدہ کے رہنماؤں یا سرکردہ ارکان کا کوئی اجلاس اس سال مارچ میں پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان میں ہوا تھا۔ انہوں نے اس بات کی بھی تردید کی کہ القاعدہ کے مبینہ کمپیوٹر ماہر نعیم نور خان سے دہشت گردی کے کسی نئے منصوبے کا علم ہوا تھا۔ انہوں نے کہا ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جن سے پتہ چلتا ہو کہ دہشت گردی کے کسی نئے حملے کی منصوبہ بندی کی جارہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ نعیم نور خان کے کمپیوٹر سے پرانے نقشے اور پرانی معلومات ملی تھیں جو کہ باقی ممالک کو بھی مہیا کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نعیم نور خان نے دوران تفتیش یہ انکشاف کیا تھا کہ اسی سال فروری اور مارچ میں ان سے برطانیہ میں مقیم عیسیٰ الہندی اور ایک اور شخص جو کہ بم بنانے کا ماہر تھا ملنے آئے تھے۔ یہ ملاقاتیں کب اور کہاں ہوئیں اس کے بارے میں انہوں نے کچھ نہیں بتایا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||