کور کمانڈر حملہ: ایک اور گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی پولیس نے جنداللہ نامی تنظیم سے مبینہ طور پر تعلق رکھنے والے ایک اہم شخص کو گرفتار کیا ہے جس کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ وہ دس جون کو کور کمانڈر کراچی پر ہونے والے حملے سمیت کئی اہم مقدمات میں ملوث ہیں۔ کراچی پولیس کے ڈی آئی جی آپریشن فیاض لغاری نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ گرفتار کیے جانے والے شخص کا نام محمد خالد عرف حارث ہے جسے بھینس کالونی کے علاقے سے گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس نے محمد خالد سے دو دستی بم، ٹی ٹی پستول اور دیگر اسلحہ بھی برآمد کیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق محمد خالد جنداللہ کے تنظیمی ڈھانچے میں تیسرے نمبر پر آتا ہے۔ جند اللہ سے تعلق رکھنے والے نو افراد پہلے ہی گرفتار کیے جا چکے ہیں جن میں اس تنظیم کا سربراہ عطا الرحمٰن اور اس کا نائب شہزاد باجوہ بھی شامل ہیں۔ ان افراد پر انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے۔ ان افراد پر کور کمانڈر کراچی پر حملے، چار اپریل کو گلستان جوہر کے پولیس تھانے پر حملے اور انیس مارچ کو شاہراہ پر رینجر اہلکاروں پر حملے سمیت سات مختلف مقدمات درج ہیں۔ کور کمانڈر کراچی کے قافلے پر حملے میں سات فوجی، تین پولیس اہلکار اور ایک راہگیر ہلاک ہو گیا تھا۔ گلستان جوہر تھانے اور رینجر اہلکاروں پر حملوں میں پانچ پولیس اہلکار اور دو رینجر اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||