گرفتار افراد القاعدہ ارکان ہیں: حکام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں جمعرات کے روز گرفتار کئے جانے والے دو غیرملکی افراد کا القاعدہ سے تعلق تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں خفیہ اداروں نے نامعلوم مقام پر منتقل کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ پشاور کے حیات آباد کے رہائشی علاقے میں خفیہ اداروں کی ایک خصوصی ٹیم کی کل کی کارروائی کے بارے میں سرکاری ذرائع کا موقف ہے کہ گرفتار کئے جانے والے دو غیرملکیوں کا تعلق القاعدہ سے ہے اور یہ کہ وہ الجیریا اور عراق سے ہیں۔ لیکن ان کی گرفتاری اپنی آنکھوں سے دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ چھوٹی داڑھیوں والے یہ دو بظاہر افغان معلوم ہوتے تھے۔ خفیہ اداروں کی گولی سے زخمی ہونے والا الجیریا کا ابو فوزی بتایا جاتا ہے جسے پاک افغان سرحد کے قریب ایک مسجد سے حراست میں لیا گیا۔ وہاں موجود لوگوں نے بتایا کہ سیکورٹی اہلکار شاید خودکش حملہ آوروں سے اتنے خوفزدہ تھے کہ اسے گرفتار کرنے کے لئے بھی اس کے قریب نہیں جا رہے تھے۔ اس شخص نے حکام کو پہلے اپنے غیرمسلح ہونے کا یقین دلایا جس کے بعد اسے گرفتار کیا گیا۔ اس کی معلومات پر بعد میں مختلف مقامات پر چھاپوں میں بعد میں اس کے فرار ہونے والے ساتھی کو بعد میں رات گئے گرفتار کر لیا گیا۔ حکام ان کے متعلق مزید کچھ نہیں بتا رہے کہ انہیں کن معلومات کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان افراد سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ چھاپوں میں ان کے مکانات سے کمپوٹر اور دیگر سامان بھی قبضے میں لیا گیا ہے۔ ماضی میں بھی حیات آباد میں جہاں ایک بڑی تعداد افغان پناہ گزینوں کی رہتی ہے القاعدہ کے خلاف سیکورٹی اداروں نے کئی کارروائیاں کی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||