ایم ایم اے کے دو رہنما رہا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فیصل آباد میں متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے مقامی رہنما قاری نور محمد کی پولیس کی حراست میں ہلاکت کے بعد ایم ایم اے کے دیگر دو رہنماوں کو رہا کردیا گیا ہے۔ ایم ایم اے کے سٹی صدر عبید اللہ گورمانی اور امام دین کو جمعرات کی صبح فیصل آباد میں سرگودھا روڈ کے تھانے سے رہا کیا گیا۔ رہائی کے بعد وہ قاری نور محمد کے گھر آئے جہاں قاری نور محمد کی تدفین کی تیاریاں ہو رہیں تھیں۔ ان دونوں رہنماوں کی رہائی کا اعلان فیصل آباد کے ضلعی ناظم چوہدری زاہد نذیر نے کیا۔ ایم ایم اے کے ان تینوں رہنماوں کو گزشتہ ہفتے القاعدہ سے مبینہ تعلقات کے شبہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ایم ایم اے نے جمعرات کو قاری نور محمد کی ہلاکت کے بعد شہر میں ہڑتال کی کال دی تھی۔ اطلاعات کے مطابق شہر میں جزوی ہڑتال ہوئی اور ایم ایم اے کے کارکنوں نے ایک جلوس نکالا اور نعرہ بازی کی۔ دریں اثناء ایم ایم اے کے رہنما مولانا فضل الرحمٰان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے قاری نور محمد کی ہلاکت کو ’ریاستی دہشت گردی‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قاری نور محمد کے جسم پر تشدد کے اسّی نشانات تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسی بھی شخص کو القاعدہ کا رکن یا دہشت گرد کہہ کر گرفتار کر لیتی ہے اور کئی کئی ماہ حراست میں رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال کا جائزہ لینے اور لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے بیس تاریخ کو ایم ایم اے کی سپریم کونسل کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔ ایم ایم اے کے رہنما کا کہنا تھا کہ قاری نور محمد پچیس سال سے فیصل آباد میں رہ رہے تھے، یہیں ان کی شادی ہوئی اور ان کے بچے بھی یہیں پیدا ہوئے۔ انہوں نے کہا انہیں افغان کہہ کر ان پر الزام لگانے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||