لال مسجد پر پولیس چھاپہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد میں واقع مرکزی لال مسجد اور اس سے ملحقہ لڑکیوں کی دینی تعلیم کے مدرسہ پر پیر اور منگل کی درمیانی رات پولیس نے چھاپہ مارا اور تلاشی لی۔ تھانہ آبپارہ کے ڈیوٹی افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ ایک مقدمے میں مطلوب افراد کے وہاں رہائش تھی اور انہیں کی گرفتاری کے لیے چھاپہ ماراگیا۔ تاہم انہوں نے چھاپے میں کسی گرفتاری یا کوئی سامان تحویل میں لینے کی تردید کی۔
جب امریکہ نے افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کے خلاف حملے شروع کیے تھے لال مسجد القاعدہ اور طالبان کی حمایت میں ہونے والے مظاہروں کا مرکز تھی۔ گزشتہ دنوں القاعدہ سے تعلقات کے شبہ میں گرفتار چھ حاضر سروس پاکستانی فوج کے افسران کے اہل خانہ نے بھی لال مسجد کے باہر ہی مظاہرے کیے تھے۔ لال مسجد کے امام اور مدرسے کے مہتمم عبدالعزیز کے صاحبزادے احسان عزیز نے صحافیوں کو بتایا کہ منگل کو فجر کے وقت پولیس کی بڑی تعداد نے لال مسجد اور مدرسے سے ملحقہ ان کی رہائش گاہ کو گھیرے میں لے لیا اور پولیس زبردستی گھر میں گھسی اور اہل خانہ کو ہراساں کرنے کے ساتھ تلاشی بھی لی۔
ان کے مطابق تمام پیٹیاں کھولی گئیں اور کمپیوٹر اور دیگر اشیاء کی جامع تلاشی لی گئی، تاہم پولیس کوئی چیز ساتھ نہیں لے گئی۔ انہوں نے بتایا کہ خواتین سے بدتمیزی کی گئی اور مدرسے کی کئی بچیاں خوف و ہراس کے مارے ادھر ادھر بھاگنے لگیں۔ جب احسان عزیز سے پوچھا گیا کہ اسلام آباد میں تو کئی مدرسے ہیں تو اس مدرسے پر چھاپہ کیوں پڑا تو انہوں نے جواب دیا کہ ان کے والد مولانا عبدالعزیز اور چچا غازی عبدالرشید ڈاکٹر عبدالقدیر کی حراست ہو یا اسلام پسندوں کے خلاف کارروائی اس کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں اور اسی لیے چھاپہ پڑا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||