لال مسجد: خواتین کا مظاہرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت کی جانب سے اسلام آباد کی مرکزی ’لال مسجد، کے نائب امام غازی عبدالرشید کو مبینہ دہشت گردی کے منصوبے میں ملوث کیے جانے اور مسجد و مدرسے پر پولیس چھاپوں کے خلاف جمعہ کے روز احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ ایک ہفتہ قبل حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ القاعدہ کے حامی شدت پسندوں نے امریکی سفارتخانہ، پارلیمینٹ ہاؤس، فوجی ہیڈ کوارٹر’جی ایچ کیو، اور دیگر اہم عمارتوں کو پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر تباہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا اور منصوبہ سازوں کو لال مسجد کے نائب خطیب مولانا عبدالرشید غازی نے مکمل تعاون فراہم کیا تھا۔ ایسے الزامات کے بعد لال مسجد اور اس
نماز جمعہ کے بعد لال مسجد کے باہر نمازیوں اور مدارس کے طلباء و طالبات نے احتجاجی مظاہر کیا۔ مظاہرین نے پولیس چھاپوں کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان حکومت اور امریکہ کے خلاف جبکہ اسامہ بن لادن اور طالبان رہنما ملا عمر کے حق میں نعرے بھی لگائے۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینر بھی تھے جن پر حکومت کے خلاف نعرے درج تھے۔ اس موقع پر مسجد سے ملحقہ خواتین کے مدرسے کی سینکڑوں برقعہ پوش خواتین نے غازی عبدالرشید کی بیگم کی سربراہی میں احتجاج کیا اور تحلیل کردہ کابینہ کے داخلہ، اطلاعات اور مذہبی امور کے وفاقی وزراء کو ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا۔ مظاہرین نے غازی عبدالرشید کے خلاف کارروائی ختم کرنے اور لال مسجد کے امام جو کہ ان کے بڑے بھائی ہیں ان کی تقرری منسوخ کرکے نئے امام کو مقرر کرنے کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا۔ واضح رہے کہ حکومتی کارروائی کے خدشے کے پیش نظر پاکستان کے دارالحکومت، اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی کے دیو بند مکتبہ فکر کے علماء نے دینی مدارس کی سالانہ چھٹیاں منسوخ کرنے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔ یاد رہے کہ لال مسجد کے امام اور نائب امام عبدالعزیز اور غازی عبدالرشید روپوش ہیں۔ جمعرات کو ان کے اہل خانہ نے اخباری کانفرنس سے خطاب بھی کیا تھا اور جمعہ کو ہونے والا مظاہرہ ان کے احتجاج کا حصہ تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||