BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 22 August, 2004, 19:51 GMT 00:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مبینہ شدت پسندوں کی مزید گرفتاریاں

شیخ رشید
پاکستان کے وزیراطلاعات شیخ رشید احمد نے بتایا ہے کہ مزید چار افراد ابھی مطلوب ہیں
پاکستان کے وزیراطلاعات شیخ رشید احمد نے بتایا ہے کہ اسلام آباد راولپنڈی کے جڑواں شہر میں اہم عمارتوں کو تباہ کرنے والے مبینہ شدت پسندوں کے گرفتار افراد کی تعداد نو ہوگئی ہے جس میں مبینہ خود کش بمبار ٹیموں کے دو سربراہ بھی شامل ہیں۔

اتوار کی شام اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ نو شدت پسند گرفتار ہو چکے ہیں جبکہ چار اب بھی مطلوب ہیں جن کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ قبائلی علاقوں میں گھیرا تنگ ہونے کے بعد شدت پسندوں نے شہروں کا رخ کرلیا ہے اور وہ عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ جہاں بھی مشکوک افراد کو دیکھیں فوری طور پر پولیس کو مطلع کریں۔

وزیراطلاعات نے کرائے پر مکانات دینے والے مالکان اور پراپرٹی ڈیلرز پر زورد دیا کہ وہ مکمل چھان بین کے بعد مکانات کرائے پر دیں۔

یاد رہے کہ صوبہ پنجاب کی حکومت پہلے ہی اس سلسلے میں بڑے بڑے اشتہارات مختلف اخبارات میں شائع کرا چکی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ جس کسی کرائے کے مکان سے شدت پسند گرفتار ہوئے اس مکان کے مالک کے خلاف سخت کاروائی ہوگی۔

شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں ایوان صدر، پارلیمینٹ ہاؤس اور راولپنڈی میں آرمی چیف کی رہائش گاہ اور فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹر سمیت دونوں شہروں میں یوم آزادی کے موقع پر کئی اہم عمارتوں کو تباہ کرنے کا بڑے پیمانے پر منصوبہ بندی کی گئی تھی جو ان کے بقول سکیورٹی ایجنسیز نے ناکام بنادی۔

انہوں نے کہا کہ عثمان اور مصطفیٰ نامی افراد دو خود کش بمبار ٹیموں کے سربراہ تھے اور عثمان نے سکیورٹی حکام کو بتایا ہے کہ سابق رکن قومی اسمبلی جاوید ابراہیم پراچہ نے انہیں غازی عبدالرشید تک پہنچایا۔

ادھر وزیر داخلہ نے ایک نجی ٹی وی چینل جیو سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ جاوید ابراہیم پراچہ اسلام آباد پر حملوں کی منصوبہ بندی کے مرکزی کردار ہیں۔

واضح رہے کہ کوہاٹ سے مسلم لیگ نواز کی ٹکٹ پر منتخب ہونے والے سابق رکن اسمبلی جاوید ابراہیم پراچہ نے ایسے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ان کا شدت پسندوں سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ عثمان نامی شخص کو جانتے ہیں۔

وزیر کے مطابق لال مسجد کے نائب مہتمم غازی عبدالرشید نے ایک موبائیل فون اور تین ’فون سم، مبینہ شدت پسندوں کو فراہم کی تھیں جو کہ گرفتار ہونے والے مصری باشندے قاری اسماعیل اور عثمان کے زیراستعمال تھے۔

انہوں نے مزید بتایا اسلام آباد اور راولپنڈی میں تباہی پھیلانے کا منصوبہ ساز ایک شخص افغانستان سے پشاور آیا اور جب تک پاکستانی حکام کو پتہ چلا وہ غائب ہو گیا۔

دریں اثناء مذہبی امور کے وفاقی وزیر اعجازالحق نے ایک علیحدہ کانفرنس میں بتایا ہے کہ مدارس پر چھاپوں کا مقصد کسی مخصوص گروہ، فرقے یا مدرسے کے خلاف قدم نہیں بلکہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے مرکزی علماء کونسل قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں تمام مکاتبِ فکر اور فرقوں کے علماء کو نمائندگی دی جائے گی اور اس کونسل کو مدارس پر چھاپوں اور دیگر کاروائیوں کے متعلق اعتماد میں لیا جائے گا۔

اعجازالحق نے بتایا کہ انہوں نے ’وفاق المدارس تنظیم، کے نمائندوں سے رابطے کیے ہیں اور انہیں اعتماد میں بھی لیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد