’دہشت گردی میں ملوث نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق رکن قومی اسمبلی جاوید ابراہیم پراچہ نے پیر کو حکومت کی طرف سے عائد کردہ ان الزامات کی تردید کی ہے جس میں انہیں اسلام آباد میں اہم مقامات پر دہشت گردی کے منصوبے میں ملوث قرار دیاگیا تھا۔ پشاور میں ایک اخباری کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے عدالت میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست بھی دائر کر دی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے سابق رکن قومی اسمبلی جاوید ابراہیم پراچہ کا نام سنیچر کی رات وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے ایک اخباری کانفرنس میں لیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تیرا اگست کو اسلام آباد میں اعلی سرکاری اور فوجی عمارتوں اور امریکی سفارت خانے کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کی ایک کوشش کو ناکام بنا دیا گیا تھا۔ وفاقی وزیر نے اس کوشش کی منصوبہ بندی کرنے والوں میں کوہاٹ سے تعلق رکھنے والے سابق رکن قومی اسمبلی جاوید ابراہیم پراچہ کا بھی نام لیا تھا۔ اخباری کانفرنس میں جاوید پراچہ نے ان الزامات کی تردید کی اور کہا کہ انہیں حکومت امریکی ایماء پر سینکڑوں کی تعداد میں عرب جنگجوں کو جیلوں سے رہا کروا کر اپنے اپنے ملک بھیجنے پر سزا دینا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر اطلاعات اور داخلہ نئی کابینہ میں اپنی وزارتیں پکی کرنے کے لیے ان کو استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھاگنے اور چھپنے والے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی کارروائی سے فارغ ہو کر وہ حکومت کے خلاف ہتک عزت کا دعوی بھی دائر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جاوید پراچہ نے حکومت کے بقول دہشت گردی کے منصوبے کے اہم کردار فرخ عثمان سے کسی بھی تعلق کی تردید کی۔ ایک سوال کے جواب میں کہ وہ اسلام آباد میں مبینہ تخریبی کارروائی کی کوشش کو کس نظر سے دیکھتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ اس کے بارے میں رائے اس وقت تک نہیں دی جا سکتی جب تک اس کی تصدیق نہ ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی ڈالروں کی خاطر دہشت گردی کو ایک ڈرامہ بنا دیا گیا ہے۔ جاوید پراچہ گزشتہ ڈیرھ دو برس کے دوران افغانستان سے واپس آئے غیرملکیوں کی پاکستانی جیلوں سے رہائی کی کوششوں میں پیش پیش رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||