BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 19 August, 2004, 16:33 GMT 21:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فیصل آباد: قاری نور محمد کی نماز جنازہ

ہزاروں لوگوں نے قاری نور محمد کی نماز جنازہ میں شرکت کی
ہزاروں لوگوں نے قاری نور محمد کی نماز جنازہ میں شرکت کی
آج فیصل آباد میں متحدہ مجلس عمل کے مقامی رہنما قاری نور محمد کی پولیس کی تحویل میں ہلاکت کے بعد نماز جنازہ میں سینکڑوں افراد نےشرکت کی۔

پولیس کے مطابق نور محمد دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہوۓ جبکہ مجلس عمل کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کی ہلاکت پولیس کے تشدد سے ہوئی اور یہ کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے ان کے جسم پر تشدد کے متعدد نشانات کی تصدیق ہوئی ہے۔

متحدہ مجلس عمل نے آج فیصل آباد میں ہڑتال کی کال دی ہوئی تھی تاہم شہر میں دکانیں کھلی رہیں۔

قاری نور محمد کی نماز جنازہ مبارک مسجد میں پڑھائی گئی اور مجموعی طور حالات پر امن رہے۔ تاہم اس دوران میں سپاہ صحابہ کے ایک رہنما خالد قاسمی ، جو سابق رکن قومی اسمبلی ایثار القاسمی کے بیٹے ہیں، کے گن مینوں کی ایلیٹ فورس کے ایک جوان سے جھڑپ ہوگئی اور ان گن مینوں کو پولیس نے اس وقت حراست میں لے لیا۔

افغانستان کے علاقہ بدخشاں سے بائس سال پہلے فیصل آباد آکر مقیم ہونے والے قاری نور محمد کو پانچ روز پہلے فیصل آباد پولیس نے حراست میں لیا تھا اور ڈی آئی جی فیصل آباد عابد سعید نے بی بی سی کو بتایا کہ ان پر شمالی اتحاد سے تعلق کا شبہ تھا۔

قاری نور محمد کے ساتھ گرفتار کیے جانے والے اور سولہ ایم پی او کے تحت اسیر مبارک مسجد کے دوسرے دو علما عبیداللہ گورمانی اور امام دین کو پولیس نے آج صبح رہا کردیا تھا۔ متحدہ مجلس عمل کے رہنماوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر انھیں رہا نہ کیا گیا تو قاری نور محمد کا جنازہ نہیں اٹھایا جاۓ گا۔

رہا ہونے والے ان دو افراد نے آج شام پریس کانفرنس کی اور اپنی اسیری کی کہانی سنائی۔ انھوں نے کہا کہ حراست کے دروان میں ان پر جسمانی اور ذہنی تشدد کیا گیا اور ان سے تفتیش کے آٹھ یشن کیے گۓ جس کےد روان میں ان کے منہ پر کپڑا اوڑھا دیا جاتا تھا یا ان کا منہ دیوار کی طرف کرادیا جاتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ انھیں حراست کے دوران میں چار پانچ مختلف جگہوں پر رکھا گیا اور نیک محمد، القاعدہ ، اسامہ اور ملا عمر کے بارے میں سوال پوچھے گۓ۔ ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ ان کے پاس کون کون آتا ہے۔

ان دونوں علما کا کہنا تھا کہ ان کا القاعدہ یا ملا عمر وغیرہ سے کوئی تعلق نہیں۔

دوسری طرف مجلس عمل کے قامی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بیس اگست کو اپنی سپریم کونسل کے اجلاس میں قاری نور محمد کی ہلاکت پر آئیندہ لائحہ عمل تیار کرے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد