قاری نور محمد کی ہلاکت پر احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فیصل آباد ایم ایم اے کے کارکن قاری نور محمد جنہیں القاعدہ سے تعلق کے الزام میں جمعرات کو گرفتار کیا گیا تھا کی آخری رسومات جمعرات کو فیصل آباد میں ادا کی جائیں گی۔ دریں اثناء ایم ایم اے کے رہنما مولانا فضل الرحمٰان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے قاری نور محمد کی ہلاکت کو ”ریاستی دہشت گردی” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قاری نور محمد کے جسم پر تشدد کی اسّی نشانات تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسی بھی شخص کو القاعدہ کا رکن یا دہشت گرد کہہ کر گرفتار کر لیتی ہے اور کئی کئی ماہ حراست میں رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال کا جائزہ لینے اور لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے بیس تاریخ کو ایم ایم اے کی سپریم کونسل کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔ جمعرات کو فیصل آباد میں ایم ایم کی طرف سے ہڑتال کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ ایم ایم اے کے رہنما کا کہنا تھا کہ قاری نور محمد پچیس سال سے فیصل آباد میں رہ رہے تھے، یہیں ان کی شادی ہوئی اور ان کے بچے بھی یہیں پیدا ہوئے۔ انہوں نے کہا انہیں افغان کہہ کر ان پر الزام لگانے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ قاری نور محمد پولیس کی حراست میں ہلاک ہو گئے تھے۔ قاری نور محمد اور ایم ایم اے کے دو اور کارکنوں کو جمعرات کی رات کو القاعدہ سے تعلق کے الزام گیا تھا۔ ایم ایم اے کی قیادت نے پولیس سے دیگر دو کارکنوں عبیداللہ گورمانی اور امام دین کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ مجلس عمل کے فیصل آباد کے ضلعی امیر نے بی بی سی کو بتایا کہ آج ان کو شام پانچ بجے کے قریب یہ معلوم ہوا کہ قاری نور محمد کی لاش ضلعی ہسپتال لائی گئی ہے جہاں ان کا پوسٹ مارٹم کیا جا رہا ہے ۔ مجلس عمل کے فیصل آباد کے ضلعی امیر کا کہنا ہے کہ فیصل آباد کی پولیس نے قاری نور محمد کو جعمرات اور جمعہ کی درمیانی رات کو حراست میں لیا تھا اور ان پر دہشت گردی کا الزام لگایا تھا۔ فیصل آباد کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس عابد سعید نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ کی صبح پانچ بجے قاری نور محمد کو پولیس کی حراست میں دل کا دورہ پڑا تھا جس کے بعد انہیں ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ انتقال کرگئے۔ ڈی آئی جی پولیس نے بتایا کہ قاری نور محمد کے خلاف مقدمہ درج تھا اور ان پر افغانستان کے شمالی اتحاد سے تعلق کا شبہہ تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سے قاری نور محمد پر تشدد کے نشانات کا پتہ چلا ہے تو انہوں نے کہا کہ اس کی انکوائری ہورہی ہے۔ قاری نور محمد کو پانچ روز قبل پہلے رات کے وقت مسجد سے گرفتار کیا گیا تھا۔ بدھ کو فیصل آباد میں دیوبندی مدارس کے طلباء نے قاری نور محدم کی ہلاکت پر احتجاجی مظاہرے بھی کیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||