قاری نور محمد: حراست میں ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
القاعدہ سے تعلق سے کے الزام میں گرفتار متحدہ مجلس عمل کے رہنما قاری نور محمد پولیس کی حراست میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ قاری نور محمد اور دو اور ایم ایم اے کے کارکنوں کو جمعرات کی رات کو القاعدہ سے تعلق کے الزام گیا تھا۔ مجلس عمل کے فیصل آباد کے ضلعی امیر نے بی بی سی کو بتایا کہ آج ان کو شام پانچ بجے کے قریب یہ معلوم ہوا کہ قاری نور محمد کی لاش ضلعی ہسپتال لائی گئی ہے جہاں ان کا پوسٹ مارٹم کیا جا رہا ہے ۔ قاری نور محمد جمیعت علمائے اسلام (فضل الرحمن گروپ) اور ایم ایم اے فیصل آباد کے سرکردہ رہنما تھے۔ ان کو جعمرات کی شب حراست میں لیا گیا تھا تاہم اس کی سرکاری طور پر وضاحت نہیں کی گئی تھی۔ مجلس عمل کے فیصل آباد کے ضلعی امیر کا کہنا ہے کہ لاش ابھی پولیس کی تحویل میں ہے اور ان کے ورثا کو نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ فیصل آباد کی پولیس نے قاری نور محمد کو جعمرات اور جعمہ کو حراست میں لیا تھا اور ان پر دہشت گردی کا الزام لگایا تھا۔ فیصل آباد کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس عابد سعید نے بی بی سی کو بتایا کہ آج صبح پانچ بجے قاری نور محمد کو پولیس کی حراست میں دل کا دورہ پڑا تھا جس کے بعد انہیں ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ انتقال کرگئے۔ ڈی آئی جی پولیس نے بتایا کہ قاری نور محمد کے خلاف مقدمہ درج تھا اور ان پر افغانستان کے شمالی اتحاد سے تعقل کا شبہہ تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ پوسٹ مارٹ کی رپورٹ سے قاری نور محمد پر تشدد کے نشانات پا پتہ چلا ہے تو انہوں نے کہا کہ اس کی انکوائری ہورہی ہے۔ قاری نور محمد کو پانچ روز قبل پہلے رات کے وقت مسجد سے گرفتار کیا گیا تھا۔ آج فیصل آباد میں دیوبندی مدارس کے طلباء نے قاری نور محدم کی ہلاکت پر احتجاجی مظاہرے بھی کیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||