القاعدہ ختم کروں گا: مشرف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نےکہا ہے کہ قبائلی علاقوں سے القاعدہ کے شدت پسندوں کو سیاسی اور فوجی طریقوں سے ختم کیا جائےگا۔ جمعرات کے روز نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی جانب سے ُایک نیا امن اور ایک نئی جنگٰ کے عنوان سے منعقد کردہ عالمی گول میز کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خواہ کچھ بھی ہو جائے وہ اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ صدر کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقہ جات میں زور شور سےآپریشن جاری رہے گا۔ تاہم انہوں نے قبائلی علاقوں میں کارروائی کے لئے اختیار کردہ پاکستان کی سیاسی اور فوجی دو رخی حکمت عملی پر خدشات و اعتراضات مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی حکمت عملی ہی بہتر ہے۔ ان کا دعوی تھا کہ پاکستان نے خطے میں پائیدار امن اور سلامتی کے لئے جنوبی ایشیا کو جوہری اسلحہ سے پاک کرنے اور فوجوں کی تعداد کم کرنے سمیت متعدد اقدامات اٹھائے ۔ انکے مطابق گزشتہ چار برسوں سے پاکستان نے دفاعی اخراجات میں اضافہ نہیں کیا اور یکطرفہ طور پر فوج میں کمی بھی کی۔ صدر مشرف کا کہنا تھا کہ پاکستان بھارت سے امن چاہتا ہے اور کشیر سمیت تمام تنازعات حل کرنا چاہتا ہے۔ انکی رائے تھی کہ مسلمانوں کے آگے بڑھنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ روشن خیالی اور اعتدل پسندی اختیار کی جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||