BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 28 September, 2003, 18:44 GMT 22:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف کو ہٹا دیں: ’القاعدہ ٹیپ‘
جنرل پرویز مشرف
مشرف نے اسلام سے غداری کے الزام کی پرزور تردید کی ہے

عربی ٹیلی ویژن چینل الجزیرہ اور العربیہ نے القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری سے منسوب ایک ریکارڈ شدہ بیان نشر کیا ہے جس میں پاکستانی مسلمانوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ صدر جنرل پرویز مشرف کا تختہ الٹ دیں کیونکہ وہ اسلام سے غداری کے مرتکب ہوئے ہیں۔

الظواہری نے اس سے قبل بھی جنرل مشرف پر اسلام سے غداری کا الزام عائد کیا تھا۔

غصہ بھری آواز میں کہا گیا ہے: ’یہ مشرف ہی ہیں جن کی مدد سے امریکہ نے افغانستان میں ایک اسلامی حکومت کو ختم کیا۔ اگر وہ امریکہ کو اپنا زبردست تعاون نہ دیتے تو امریکہ کبھی ایسا کرنے کے قابل نہ ہوتا اور نہ ہی وہ ہزاروں معصوم افغانوں کے خون سے ہاتھ رنگ پاتا۔‘

آواز مزید کہتی ہے: ’یہ مشرف ہی ہیں جو پاکستانی فوجیوں کو عراق بھجوانا چاہتے ہیں تاکہ امریکی فوج کی جگہ پاکستانی فوجی ہلاک ہوں اور جواب میں وہ عراقی مسلمانوں کو قتل کریں۔ اور اس کا مقصد امریکہ کو مسلمانوں کی سرزمین پر قبضہ جمانے کے قابل بنانا ہے۔ لہذا پاکستان میں مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ اس غدار کا تختہ الٹ دیں اور ملک میں ایک ایسی مخلص قیادت لائیں جو اسلام اور مسلمانوں کا دفاع کرے۔‘

اس پیغام میں تمام دنیا کے مسلمانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ امریکہ کی مسلم کش کارروائیوں کا مقابلہ کریں۔

مذکورہ ٹیپ پر موجود آواز میں مسلمانوں کو جہاد کے لئے اٹھ کھڑا ہونے کی ترغیب دی گئی ہے۔

ایمن الظواہری اسامہ بن لادن کی تنظیم القاعدہ کے نائب سربراہ ہیں۔

یہ ٹیپ اتوار کے روز نشر کی گئی۔ اس ماہ ان چینلز سے نشر ہونے والا یہ دوسراہ پیغام ہے جو القاعدہ سے منسوب کیا گیا ہے۔

پاکستان میں دفاعی امور کے تجزیہ نگار کامران خان نے بی بی سی اردو سروس میں ایک انٹرویوں میں مذکورہ ٹیپ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس پیغام اور گزشتہ پیغام کے اوقات اہمیت کے حامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلا پیغام صدر مشرف کے دورۂ امریکہ سے پہلے سامنے آیا۔ اس دورے میں جنرل مشرف نے کھل کر القاعدہ کو دہشت گرد کہا اور اسے ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

کامران خان نے کہا کہ یہ دوسرا پیغام ان کے دورے کے بعد آیا ہے اور شاید القاعدہ کو خطرہ ہے کہ پاکستانی سکیورٹی ایجنسیاں اب زیادہ تندہی سے اس کے خلاف کارروائی کریں گی۔ اس لئے القاعدہ نے مشرف حکومت کو خبردار کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ پیغام حال ہی میں ریکارڈ کیا گیا ہے کیونکہ اس میں اسرائیلی وزیراعظم ایریئل شرون کے دورۂ بھارت اور فلسطینی وزیراعظم کے مستعفی ہونے کا حوالہ دیا گیا ہے۔

اس سے قبل بی بی سی کے پروگرام ٹاکنگ پوائنٹ میں پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف نے القاعدہ کے نائب رہنما ایمن الظواہری کے اس بیان پر سخت رد عمل ظاہر تھا جس میں الزواہری نے جنرل مشرف کو ’غدار‘ کہا تھا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد